مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 14 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 14

14 صاف پانی اور سونے کیلئے زمین کا بستر ہے اور انکے گم ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔جب صبح ہوتی تو چل کھڑے ہوتے یہاں تک کہ سفر کرتے کرتے ایک وادی میں پہنچے جہاں ایک اندھا آدمی دیکھا جو ہل جل نہیں سکتا تھا۔جذام نے اس کے بدن کو پھاڑ دیا ہوا تھا۔اس کے اوپر آسمان تھا اور اسکے نیچے وادی اور اسکے دائیں بائیں برف اور سردی تھی۔مگر ان تکالیف میں بھی وہ اللہ کا شکر کیا کرتا تھا۔عیسی ابن مریم نے اس سے پوچھا کہ ان حالات میں بھی تو خدا کا شکر ادا کرتا ہے تو کس بات پر ؟ اس نے جواب دیا اے عیسی ! میں اس لئے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں اس زمانہ میں نہیں ہوا جب لوگ تجھے خدا کا بیٹا یا تین میں سے تیسرا بنا ئیں گے۔“ ( کنز العمال ج 2 صفحہ 71) اس حدیث میں جس برفانی وادی میں مسیح کے پہنچنے کا ذکر ہے وہ وادی کشمیر ہے اور وہاں برف بھی پڑتی ہے اور سردی بھی ہوتی ہے۔دنیا بھر میں سب سے بلند برفانی چوٹی کوہ ہمالیہ کی مسلّم ہے۔بعض علماء نے لکھا ہے کہ ہمالیہ دراصل حَمَّالِ یخ تھا۔یعنی ” برف سے لدھا ہوا پہاڑ جو کثرت استعمال سے حملا یا اور ہمالیہ کہلاتا ہے اور ذات قرار کے لغوی معنوں کے سلسلے میں گزر گیا ہے کہ وہ مقام ہے جہاں مسیح کو پناہ دی گئی۔معلوم ہوتا ہے کہ اندھا اور جذامی آدمی آپ نے کشف اس وادی میں پہنچ کر دیکھا تا کہ آپ پر اس قوم کی حالت پہلے سے واضح کر دی جائے جس کی اصلاح کیلئے آپ وہاں تشریف لا رہے تھے۔اس واقعہ کے کشفی ہونے کا یہ قومی قرینہ ہے کہ اس جذامی نے آپ کو امرغیب کی خبر دی۔سو یہ ایک تمثیلی نظارہ تھا جس میں اس وادی میں رہنے والوں کی خراب حالت جذامی کی صورت میں آپ کو دکھائی گئی اور اس تمثیل کے ذریعہ آپ کو علم بھی دیا گیا کہ یہ قوم آپ پر ایمان لائے گی اور آپکو خدا کا شریک نہیں بنائے گی بلکہ آپکو خدا کا شریک بنانے والے کوئی اور لوگ ہونگے۔جیسا اب ظاہر ہو گیا کہ وہ یورپین عیسائی اقوام ہیں جو آپ کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے اپنی بیماری میں جس میں آپ وفات پاگئے فرمایا۔جبریل نے مجھے خبر دی ہے اِنَّ عِیسی ابنَ مَرْيَمَ عَاشَ عِشْرِينَ وَ مِأَةَ سَنَةٍ (كنز العمال و طبرانی بروایت فاطمتہ الزھرا جلد 6 صفحہ 60 ) کہ عیسی ابن مریم ایک سو بیس برس زندہ رہے۔“