مسیح کشمیر میں — Page 13
13 کو بھی بنفس نفیس اپنے پیغام اور کلام الہی سے آگاہ کیا، جہاں آپ کو خوش آمدید کہا گیا اور آپ کو عزت اور وجاہت حاصل ہوگئی اور اپنے مشن میں کامیابی بھی حاصل کی۔جیسا آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِینَ (یونس: 91) میں بھی خبر دی گئی ہے۔سو دراصل اس آیت وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا میں آپ کی رسالت کی زندگی کا ذکر ہے جس کے مخاطب سب بنی اسرائیل تھے اور آپ کا صاحب وجاہت ہونا بیان کیا گیا اور صلیبی موت از روئے بائیل خلاف وجاہت ہے۔چنانچہ بائیل میں یسعیاہ باب 93 میں بھی مسیح کی بابت درازی عمر کی پیشگوئی کی تھی جس کا ذکر آگے آئے گا۔قرآن میں آپ کا مسیح نام رکھنے میں بھی پیشگوئی تھی کہ وہ دنیا میں سیاحت کرے گا کیونکہ مسیح کے معنی ہیں سیاحت کر نیوالا۔حضرت جابر کی حدیث کنز العمال میں ہے كَانَ يَسِيحَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ یعنی عیسی ابن مریم سیاحت کیا کرتے تھے۔اس لئے اسلامی لٹریچر میں آپ کو امام السائحسین یعنی سیاحت کرنے والوں کا امام لقب دیا گیا ہے۔اگر 33 سال کی عمر میں آپ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے جیسا کہ لوگ سمجھتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ سیاحت کسی زمانہ میں کی تھی اور ادھیڑ عمر میں کب لوگوں کو کلام الہی سنایا اور وجاہت کب حاصل کی؟ کیونکہ فلسطینی زندگی میں یہ تینوں باتیں آپ کو حاصل نہیں ہوئیں۔حدیثوں میں مسیح کی سیاحت اور برفانی وادی میں پہنچ کر وفات پانے کا ذکر : حدیثوں میں بھی مسیح کی خفیہ ہجرت ، سیاحت اور ایک برفانی وادی میں پہنچنے کا ذکر موجود ہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔اَوْحَى الله إلى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَنْ يُعِيسَى انْتَقَلَ مِنْ مَكَان إِلى مَكَان لاَنْ لَّا تُعْرَفَ فَتُؤذى ( كنز العمال ج 2 صفحہ 34) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کی طرف وحی بھیجی کہ اے عیسی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جاتا کہ تجھے کوئی پہچان نہ لے اور تکلیف نہ دے۔ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں کہ اس جگہ کو قرآن میں ”ربوہ بیان کر کے مسیح کی پناہ گاہ قرار دیا گیا جو وادی کشمیر ہے ایک اور مقام پر کنز العمال میں دیلمی اور ابن نجار نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حضرت مسیح کے سفر اور ایک برفانی وادی میں پہنچنے کی روایت کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے۔حضرت عیسی علیہ السلام سفر کیا کرتے تھے۔جب شام پڑ جاتی تو جنگل کا ساگ پات کھا لیتے اور چشموں کا پانی پی لیتے اور مٹی کا تکیہ بنا لیتے۔پھر فرماتے تھے کہ نہ میرا گھر ہے جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ کوئی اولاد جن کے مرنے کا غم ہو۔کھانے کیلئے جنگل کا ساگ پات ، پینے کیلئے چشموں کا