مسیح کشمیر میں — Page 8
8 یسعیاہ باب 49 آیت 9 تا 12 میں بھی بنی اسرائیل کے اپنے باپ دادا کی زمین سے جو خدا نے انکو دی تھی منتشر ہو کر چشموں والے پہاڑی علاقہ میں قیام کی پیشگوئی آئی تھی کہ خدا پانی کے چشموں کی طرف انکی راہبری کریگا اور یہ کہ وہ اپنے سارے کو ہستان کو ایک راہ گزر بنائے گا اور اسکی شاہراہیں اونچی کی جائیں گی وہ دور دور سے آئیں گے، شمال سے مغرب سے اور سینیم کے ملک سے۔“ بائیبل کے مفسرین نے سینیم کے ملک پر بخشیں کی ہیں کہ پیشگوئی مذکورہ میں سینیم سے مراد کونسا 66 ملک ہے۔جان ڈی ڈیوس کی بائیل کی ڈکشنری میں لکھا ہے کہ سینیم وہ علاقہ ہے جہاں ”SHINS “ شین نامی قبائل ) رہتے ہیں یعنی کوہ ہندوکش کے دامن کا علاقہ۔۔۔۔زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ سینیم سے سرزمین چین مراد ہے جہاں مسیح سے قبل بنی اسرائیل آباد ہوئے۔(صفحہ 692) کوہ ہندوکش کے دامن میں گلگت، ہنزہ ونگر جسے مؤرخین نے در دستان بھی لکھا ہے شین قبائل رہتے ہیں اور شین جی کی نسبت سے اپنی زبان کو شینا زبان“ کہتے ہیں۔آج کل ریڈیو پاکستان سے شینا زبان میں پروگرام بھی نشر ہوتے ہیں۔در دستان کے نام سے بعض مغربی سیاحوں نے کتا بیں بھی لکھی ہیں۔یہ اس علاقہ کا قدیم نام ہے، یہ نام در دع قبائل کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔درد یا دردع بائیبل کے مطابق حضرت سلیمان کے زمانہ میں ایک دانا آدمی تھا وہ ان مہاجر قبائل کا مورث اعلیٰ تھا۔مسیح سے قبل سارگن نامی ( شاہ بابل) نے ان قبائل پر جب حملہ کیا تو فلسطین سے انہیں گرفتار کر کے بابل لایا۔جہاں انہیں بحیرہ کیسپین کے کنارے کیمپوں میں رکھا۔جہاں سے وہ بھاگ بھاگ کر بھی ادھر اُدھر منتشر ہوئے اور انکے ذریعہ آس پاس کے علاقوں میں بھی وارداتیں ہونے لگیں۔تب سارگن نے ان قبائل کو جن کی تعداد میں لاکھ بتلائی جاتی ہے شمال مغربی ہندوستان کے پہاڑی علاقوں میں دور دور تک جنگلوں اور بیابانوں میں بکھیر دیا اور وہاں انکی نو آبادیاں قائم کیں۔چنانچه حشمت اللہ خان لکھنوی نے اپنی کتاب ” تاریخ جموں و گلگت بلتستان مع الحاقات میں لکھا ہے کہ گلگت کا قدیم نام سارگن تھا۔اس نے اسکی وجہ تسمیہ جتلانے سے لاعلمی ظاہر کی ہے تو اس کی وجہ تسمیہ یہی ہے کہ قدیم زمانہ (722 ق م) میں جب سارگن نے یہاں ان مہاجر قبائل پر مشتمل یہ بستی قائم کی ارض بائیل میں شین ایک علاقہ کا نام تھا ( اسموئیل باب 7 آیت 13 ) اس علاقہ کے پناہ گزین جب یہاں آئے تو اسی سے دشین، مشہور ہوئے۔از سلاطین باب 4 آیت 31