مسیح کشمیر میں — Page 9
9 تو اس کے نام پر اس کا نام سارگن رکھا گیا۔بعد میں اس کا نام گلگت رکھا گیا۔گلگتا اس پہاڑی کا نام بھی ہے جہاں حضرت مسیح کو صلیب دینے کیلئے لے جایا گیا۔گلگت کے معنی آج بھی اہالیانِ گلگت میں قبرستان کے مشہور ہیں کیونکہ گلگت کے پاس قبرستان تھا جہاں فلسطین میں مصلوب مجرموں کو دفن کیا جاتا تھا۔گلگت کے معنی ہیں کھوپڑی کی جگہ۔یہ نام اناجیل اربعہ کے آخری ابواب میں وہاں پر آیا ہے جہاں حضرت مسیح کو گلگو تھا، گلگوت کے مقام پر صلیب دئیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔بہت ممکن ہے کہ مسیح کے ماننے والوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس نو آبادی کا پرانا نام جو ان کے اسیر ہونے کا نشان تھا بدل کر گلگت رکھا اور البیرونی نے بھی اپنی کتاب الہند میں اس جگہ کا نام گلگت بتلایا ہے جو چوتھی صدی ہجری میں محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔پس یہ کہنا کہ گلگت کا نام سکھوں کے زمانہ میں رکھا گیا ہے صحیح نہیں ہے۔اس علاقہ میں وہ کوہ مصفار بھی ہے ( جسے اب مصغر کہتے ہیں) جس میں حضرت مسیح کے پہنچنے کا اشارہ زبور باب 42 آیت 6-7 میں ملتا ہے۔اس زبور میں جسے متعلق با مسیح کہا گیا ہے بطور پیشگوئی بیان کیا گیا ہے کہ ” میں تجھے (اے خدا) کو ہ مصغار سے یاد کروں گا۔تیرے آبشاروں کی آواز سے گھراؤ گھراؤ۔پکارتا ہے۔“ اور عجیب مماثلت ہے کہ علاقہ گلگت کو آبشاروں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ریفرنس بائیبل میں سینیم میں سرزمین ”ار زار تھے“ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔یہ اس جگہ کا نام معلوم ہوتا ہے جسے آج کل ” ہزارہ کہتے ہیں کیونکہ راج ترنگنی (قدیم تاریخ کشمیر ) میں اس کا نام ارا سا، اراشا ، اور اُرشا بھی آیا ہے اور آج کل اس میدان کو جو ایبٹ آباد مانسہرہ کے درمیان ہے رش کا میدان کہتے ہیں۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ارض سینیم“ سے ارض سین یعنی دریائے سندھ کا علاقہ مراد ہے۔سینیم عبرانی میں سین اور یم سے مرکب ہے۔جیسے بعل سے تعلیم یہ یم کا لفظ تعظیماً واحتراما شامل کیا گیا ہے۔جب جگہ کے ساتھ استعمال ہو تو اس کا احترام مقصود ہوگا اور جب نام کے ساتھ استعمال ہو تو مسمی کا احترام مقصود ہو گا۔جیسے بائیل کی پیشگوئی میں رسول اللہ کا نام محمد یم آیا ہے۔یعنی مقدس محمد یا حضرت محمد (ع)۔حضرت مسیح الہامی نوشتوں کی رو سے صرف بنی اسرائیل کے لئے پیغمبر مبعوث کئے گئے تھے۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے وَرَسُولاً إِلى بَنِي إِسْرَا نَيْل ( آل عمران: 50 ) کہ حضرت مسیح بنی اسرائیل کیلئے رسول تھے۔سورہ صف ع 1 میں خود مسیح کا اعلان مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا۔بینی اِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ یعنی اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔