مسیح کشمیر میں — Page 7
7 بھارت میں اس موضوع پر کئی کتابیں شائع کی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں بنی اسرائیل کہاں کہاں آباد ہوئے تھے۔تفاسیر اسلامی میں بھی چین کے پاس اسرائیلی آباد کاروں کا ذکر آیا ہے چنانچہ علامہ عمادالدین ابن کثیر کی مشہور تفسیر میں ابن عباس سے آیت وَمِنْ قَوْمِ مُوسَى أُمَّةٌ يَهْدُوْنَ بِالْحَقِّ (اعراف: 60) کی تفسیر میں مروی ہے کہ ابن عباس نے فرمایا کہ قوم موسیٰ کی اس جماعت“ سے وہ بقایا بنی اسرائیل کی جماعت مراد ہے جنہوں نے کفرو شرک اور خدا کی نافرمانی سے بیزار ہوکر خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی اور وہ چین کے پاس علاقوں میں بس گئی۔وہ ڈیڑھ سال تک سفر کرتے رہے وہ اب تک چین اور آس پاس کے ملکوں میں موجود ہیں۔یہاں تک کہ آخر زمانہ میں مسیح موعود کے ذریعہ مسلمان ہونگے اور اسی کی طرف آیت فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِثْنَابِكُمْ لَفِيفاً (بنی اسرائیل: 105) میں اشارہ ہے۔یعنی جب آخری زمانہ میں دوسرا وعدہ پورا کرنے کا وقت آئیگا تو ہم بنی اسرائیل کو جمع کریں گے۔( تفسیر ابن کثیر 2 مطبوعہ مصر صفحه 256) چین کے پاس ملکوں میں آباد اسرائیلیوں سے افغانستان شمال مغربی پاک و ہند ، در دستان اور کشمیر کے اسرائیلی آباد کار مراد ہیں جس سے ظاہر ہے کہ نہ صرف تاریخ بلکہ مشہور اسلامی تفاسیر بھی مبینہ نظریہ کی تصدیق کرتی ہیں۔بائیبل کے صحیفہ یسعیاہ باب 49 آیت 9 تا 12 میں بھی بنی اسرائیل کے ارض سینیم ( چین ) جانے کی پیشگوئی تھی۔بائیبل کے مطابق عاموس نبی نے پیش گوئی کی تھی کہ دس فرقے اسیر ہوکر غیر ملکوں میں جائیں گے مگر خداوند اسرائیل کے گھرانے کو سراسر تباہ نہیں کرے گا بلکہ اسے غیر قوموں کے درمیان پاک وصاف کر کے پہلے عروج کی نسبت زیادہ عروج عطا کرے گا جبکہ داؤد کا گرا ہوا خیمہ از سرنو کھڑا کیا جائیگا۔اس پیشگوئی میں داؤد کے گرے ہوئے خیمے کو از سر نو کھڑے کرنے پر اسرائیلی قبائل کے عروج کی خبر دی گئی ہے وہ ان قوموں کے اسلام قبول کرنے پر پوری ہوگئی۔اسلام قبول کرنے پر داؤد کا خیمہ دوبارہ قائم ہو گیا اور افغانوں اور کشمیریوں میں اس کے بعد بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران ہوئے۔مسیح آخرالزمان کے وقت دوبارہ داؤد کا خیمہ کھڑا کیا جائے گا اور جب افغان و کشمیر کے اسرائیلی قبائل مسیح آخر الزمان کو قبول کرینگے تو دوبارہ انہیں عروج ملے گا۔تاریخ بائیل صفحه 322