مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 111 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 111

111 کی بناء پر شامل کیا گیا ہے۔حضرت عیسی تمیں سال تک ہمارے درمیان رہے۔سیاح موصوف لکھتے ہیں کہ ابا یحیی نے مجھے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایک دن آئے گا جب دنیا پر یسوع کے بارے میں سچائی منکشف ہوگی۔جی قدیم ہندوستان میں عیسائی آثار پادری برکت اللہ ایم۔اے اپنی تاریخ کلیسائے ہند میں جو کئی حصوں میں لکھی ہے قدیم ہندوستان میں عیسائیت اور عیسائی کلیسیاؤں اور آثار پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں۔ہند کے طول وعرض میں قدیم صدیوں کے دوران میں ہندو دھرم اور بدھ مت وغیرہ کے دوش بدوش مسیحیت بھی موجود تھی اور مختلف مقامات میں اکثر اوقات ٹمٹماتے چراغ کی طرح روشن تھی۔( تاریخ مذکور حصہ دوئم صفحہ 12) ایک اور مقام پر اسکندریہ (علاقہ شام ) اور مغربی ہندوستان کے یہودی النسل مسیحیوں کے مابین رابطہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اسکندریہ کے مقدس پن ٹینس (190ء) جو بڑا عالم و فاضل عبرانی الاصل عیسائی تھا کو مرکزی کلیسیا کی طرف سے ہندوستان بھیجا گیا۔اسے ہندوستان میں آرامی زبان کی انجیل کا وہ اصل نسخہ مل گیا جو فلسطین سے گم ہو چکا تھا۔اس نسخہ کو دیکھ کر پن ٹی نس خوشی سے اچھل پڑا اور اس نے مغربی ہندوستان کے مسیحیوں سے عاریتاً یہ نسخہ مانگا، انہوں نے یہ نسخہ دے دیا اور جب وہ واپس اسکندریہ گیا تو اس نسخہ کو ہمراہ لے گیا۔“ (صفحہ 19 و صفحہ 28 ملخصا) عیسائی مؤرخین اس پر بحث کرتے ہیں کہ مقدس پن ٹینس ہندوستان کے کس حصہ میں گیا تھا۔پادری برکت اللہ اس خیال کو معقول قرار دیتے ہیں کہ پن ٹینس شمال مغربی ہندوستان کے حصہ میں گیا تھا جہاں یہودی نسل کے مسیحی رہتے تھے۔(صفحہ 23 ) اور یہ بھی لکھا ہے کہ بہر تالمائی جو مسیح کے بارہ رسولوں میں سے تھا ہندوستان میں آیا تھا اور تھو ما حواری مدراس (جنوبی ہند ) چلا گیا تھا۔جہاں تبلیغ کرتے کرتے کا فر باشندوں کے ہاتھوں وہ ایک پہاڑی پر شہید کر دیا گیا۔"Michael Burke " Among the Derveshes (شائع شدہ الفضل 29 جون 1977ء)