مسیح کشمیر میں — Page 110
110 ہرات میں عیسی ابن مریم کشمیری کی انجیلیں جن مغربی سیاحوں نے افغانستان کی سیاحت کر کے اسلام سے قبل عیسائیت کی موجودگی کا پتہ لگایا ہے ان میں زمانہ حال کے ایک مغربی سیاح میکائیل بروک (Michael Burke) بھی ہے۔جس نے حجاز وشام، ایران ، ترکی، پاکستان کافرستان اور افغانستان کی سیاحت کے بعد ایک کتاب بنام Among the Derveshes (درویشوں کے درمیان میں ) شائع کرائی جسے اوکتو گن پریس لمیٹڈ لنڈن نے 1973 میں شائع کیا۔اس میں انہوں نے لکھا ہے کہ افغانستان میں ہرات کے قرب و جوار میں عیسی ابن مریم کے پیروؤں کے نام سے ایک قدیم عیسائی فرقہ آباد ہے جو با ہم عام طور پر مسلمان کہلاتے ہیں۔انکا دعوی ہے کہ حضرت عیسہلی صلیبی موت سے بچائے گئے ، اپنے دوستوں کی مدد سے ایک مدت تک مخفی رہے ، پھر انہیں کنعان ( فلسطین) سے ہجرت کر کے ہندوستان (پاک و ہند ) میں آنے میں مدد دی گئی۔وہ کشمیر میں بس گئے۔یوز آسف حضرت میخ ہی کا نام ہے۔انا جیل میں حضرت مسیح کی صرف ادھوری زندگی کے حالات ہیں۔اس فرقہ کے پاس حیات مسیح کے مکمل حالات محفوظ ہیں۔حضرت عیسی مسیح کا نام ” عیسی ابن مریم ناصری کشمیری“ ہے۔اس فرقہ کی مقدس کتاب ”حیات مسیح “ ہے جس میں آپ کی زندگی کے اصل حالات ہیں۔انکے پاس ایک اور کتاب احادیث اسیح بھی ہے۔انا جیل میں مکمل صداقت نہیں ہے صرف اس کا ایک حصہ ہے۔اسکی ترتیب دینے والے کماحقہ مسیح کی اصل تعلیمات سے آگاہ نہیں تھے۔سیاح موصوف لکھتا ہے کہ مجھے یہ معلومات اس فرقہ کے سردار ابا سکی کی زبانی معلوم ہوئے جو اپنے آپ کو مسیح کے زمانہ سے ساٹھویں پشت میں فرقہ کا امیر قرار دیتا ہے اور یکے بعد دیگرے ساٹھ پشتوں کے راہنماؤں کا تذکرہ زبانی کر سکتا ہے۔یہاں تک کہ یہ سلسلہ ناصرہ کے عیسی ابن مریم کشمیری تک جاملتا ہے۔سیاح موصوف نے اپنی اس کتاب میں لکھا ہے کہ میں نے ابا سکی سے متعدد بار گفتگو کی ہے۔اگر چہ اس بات کو درست ماننے کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کی عیسائیت کا بہت قلیل حصہ قابل تسلیم رہ جاتا ہے۔ابا کی موجودہ عیسائی فرقوں کو ملحدین کا نام دیتے ہیں اور انسے کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے۔انہوں نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ یہ لوگ (موجودہ عیسائی ) کہانی کا محض ایک حصہ پڑھتے اور دہراتے ہیں۔انہوں نے پیغام کا سراسر غلط مفہوم لیا ہے۔ہمیں ہمارے آقا نے خود سچ سچ بتایا ہے۔جس دستاویز کو آپ بائیل کہتے ہیں اس میں کچھ کچھ واقعات درست ہیں لیکن اس کا بڑا حصہ من گھڑت ، خیالی اور خاص مقاصد