مسیح کشمیر میں — Page 53
53 شام و ہند کے مابین قدیم رسل و رسائل یہاں یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ اگر مسیح نے لمبی عمر پا کر کشمیر میں وفات پائی تو یہ تصویر کشمیر سے روم کے گر جا میں کیسے پہنچ گئی ؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ شام و روم اور قدیم ہندوستان کے درمیان ابتدائی عیسوی صدیوں میں بڑی و بحری راستوں سے سلسلہ رسل و رسائل جاری تھا اور تجارتی قافلوں کی آمد ورفت کے علاوہ خود مسیح کے حواریوں کی آمد ورفت بھی جاری تھی۔چنانچہ پادری برکت اللہ ایم۔اے لکھتے ہیں: تھوما حواری نے 25 سال ہندوستان میں گزارے اور مدراس میں شہید ہو کر دفن ہوئے۔چنانچہ شام کے مسیحی دوسری صدی عیسوی میں ہندوستان آئے اور تھوما کی قبر کھود کر انکی ہڈیاں سمیٹ کر شام کے ملک میں لے گئے اور اُڈیسہ کے مقام پر دفن کر دیں اور خطوط بھی ہند سے شام بھیجے جایا کرتے تھے۔“ (دیکھو تاریخ کلیسیائے ہند صفحہ 115) پس یہ ظاہر ہے کہ اگر تھو ما رسولِ ہند کی ہڈیاں ہندوستان سے شام پہنچائی جاسکتی ہیں تو مسیح کی تصاویر کشمیر سے روم وشام میں کیوں پہنچائی نہیں جاسکتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مصور مسیح کی ملاقات و زیارت کیلئے انکی بڑی عمر میں انکے پاس پہنچا اور یادگار کے طور پر انکی تصویر بنا کر ہمراہ لے گیا۔ردائے مسیح یا ”مقدس کفن زمانہ حال کے آثار قدیمہ کے انکشافات میں سے حضرت مسیح کی وہ دو ہزار سالہ چادر بھی ہے جو بطور کفن یہودیوں پر نہ ظاہر کرنے کیلئے کہ اسے کفن کیسا تھ قبر میں رکھا جارہا ہے، مسیح کے جسم پر پیٹی گئی تھی۔جبکہ انہیں بیہوشی کی حالت میں صلیب پر سے اتار کر پاس ہی ایک کمرہ نما قبر میں رکھا گیا تھا۔یہ چادر جسے اہل مغرب ” مقدس کفن بھی کہتے ہیں، دو ہزار سال سے عیسائیوں کے پاس محفوظ چلی آرہی تھی اور گزشتہ چار سو سال سے اٹلی کے شہر ٹورین (TURIN) کے شاہی گرجا میں حضرت مسیح کی متبرک یادگار کے طور پر اب بھی موجود ہے۔ہر 33 سال بعد اسکی نمائش بھی کی جاتی رہی ہے۔اس پر حضرت مسیح کی شبیہ کے علاوہ خون کے مختلف شکلوں والے دھبوں کے نشانات بھی دیکھے گئے۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مسیح کو جب صلیب سے اتار کر اس میں لپیٹا گیا تھا تو ان کے زخموں سے خون جاری تھا جو انکے زندہ اتارے جانے کا یقینی ثبوت ہے کیونکہ مردہ کے زخموں سے دل کی حرکت بند ہونے کی وجہ سے خون جاری نہیں ہوسکتا کیونکہ جریان خون کا تعلق دل کی حرکت سے ہوتا ہے۔