مسیح کشمیر میں — Page 52
52 باب پنجم بڑھاپے کی قدیم تصاویر: آثار قدیمہ کی شہادتیں بڑھاپے سے بھی قرآنی بیانات کی تائید ہوتی ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیح نے صلیب پر جان نہیں دی تھی بلکہ خدا نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں اس سے بچا کر ایک جنت نظیر پہاڑی علاقہ میں پناہ دی تھی۔جہاں انہوں نے لمبی عمر پا کر اپنے آسمانی مشن میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وفات پائی تھی۔حال ہی میں آثار قدیمہ کی بہت سی ایسی شہادتیں برآمد ہوئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مسیح نے واقعہ صلیب کے بعد زمین پر ہی لمبی عمر پا کر وفات پائی تھی۔ان میں سے ایک شہادت مسیح کے بڑی عمر کی ایک قدیم تصویر کا برآمد ہونا ہے اور عجب تریہ کہ خود مسیحی قوم نے یہ تصویر برآمد کی ہے اور 1947ء میں سب سے پہلے انسائیکلو پیڈیا برٹیز کا“ میں ”جیز زکرائسٹ کے لفظ کے تحت شائع کی ہے۔یہ تصویر مقدس امانت کی حیثیت سے عیسائی دنیا کے پاس نسلاً بعد نسل اٹھارہ سو سال سے محفوظ چلی آرہی ہے جو روم میں سب سے بڑے گر جا میں مقدس تبرکات کے خزانہ میں موجود ہے۔اس تصویر کے نیچے انسائیکلو پیڈیا میں مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا گیا ہے۔یہ تصویر روم کے مقدس پطرس کے گرجا میں قدیم یادگاروں میں رکھی ہوئی ہے جو کہ ایک کپڑے پر بنائی گئی ہے۔تصویر کی تاریخ یقینی طور پر دوسری صدی عیسوی تک پیچھے جاتی ہے۔“ (انسائیکلو پیڈیاز مرلفظ جیز زکرائسٹ ) عیسائی دنیا کا عقیدہ ہے کہ مسیح کی عمر 33 برس کی تھی جبکہ واقعہ صلیب کے بعد وہ آسمان پر اٹھالئے گئے تھے۔سواگر یہ صیح ہے تو پھر یہ تصویر جو سو سال سے بھی زائد عمر کی نظر آتی ہے، کہاں سے آئی ؟ اس قدیم تصویر سے ظاہر ہے کہ پہلی اور دوسری صدی کے قدیم عیسائی اس بات کے قائل تھے کہ مسیح نے زمین پر لبی عمر گزاری ہے اور واقعہ صلیب کے بعد مسیح آسمانی جنت میں نہیں زمین کی جنت کشمیر میں فوت ہو چکے ہیں اور یہ تصویر بطور یادگار چھوڑ گئے ہیں۔