مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 35
25 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم مصر پر جارحانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔اور اسے UNO کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی سمجھتا ہے۔اس قسم کے تشدد آمیز رویہ سے دنیا بھر میں امن قائم ہونے کی بجائے جنگ اور فساد کے شعلے بھڑک اٹھیں گے۔برطانیہ اور فرانس جو کل تک امن اور صلح کے علمبردار ہونے کے مدعی تھے ان کا یہ فعل یقیناً نہایت ظالمانہ بلکہ وحشیانہ ہے۔اور مصر اس معاملہ میں صریح طور پر مظلوم ہے اور ہماری ساری ہمدردیاں مظلوم کے ساتھ ہیں۔ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ برطانیہ، فرانس اور اسرائیل اپنی فوجوں کو مصر کی حدود سے نکال لیں اور جنرل اسمبلی کے حالیہ ریزولیشن متعلقہ امتناع جنگ کی فوری اور غیر مشروط تعمیل کرتے ہوئے تمام معاملات کو باہمی مفاہمت کے بین الاقوامی اصولوں کے مطابق طے کریں اور آئندہ کے لئے اپنے جارحانہ عزائم سے بالکل دستکش ہو جائیں۔موجودہ حالات میں تمام امن پسند ممالک بالخصوص پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کا فرض ہے کہ مظلوم مصر کی ہر ممکن امداد کریں۔“ (الفضل 6/نومبر 1956 ءصفحہ 1) جماعت احمدیہ کی طرف سے اظہار ہمدردی کا تار اس نازک موقعہ پر حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ناظر امور خارجہ نے مصر کے صدر جمال عبد الناصر کے نام برقی پیغام ارسال کیا جس کا ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے: موجودہ نازک وقت میں جماعت احمدیہ اور اس کے مقدس امام کی دلی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔برطانیہ اور فرانس نے مصر پر حملہ کر کے ہمیشہ ہمیش کے لئے اپنے چہروں کو داغدار کر لیا ہے۔خدا تعالیٰ ضرور ان کو اس کی سزا دے گا۔یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ موجودہ اسرائیلی حملہ کا سبب یہ ہے کہ آپ عربوں اور خصوصیت سے اردن کے مفادات کی علمبرداری کا فرض ادا کر رہے ہیں اسکے باوجود یہ امر ہمارے لئے حیرت کا باعث ہے کہ مختلف ذمہ دار ممالک ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں اور صرف زبانی ہمدردی پر اکتفا کر رہے ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جنگ میں اہل مصر کی مددفرمائے۔آمین۔ناظر امور خارجه انجمن احمد یہ پاکستان ربوہ 3 /نومبر 1956ء