مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 32
22 22 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اپنے عہد وفاداری کی تجدید کرتے ہیں اور ہم ہر فتنہ سے جسے کمزور ایمان اور کم عقل اشخاص خلافت اور منصب خلافت عالیہ کے خلاف بر پا کرتے ہیں۔نفرت کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ خلافت ہی وہ نعمت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو دنیا میں استحکام بخشنے اور اسلام کی عزت وعظمت و کرامت قائم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے۔اور ساری دنیا میں امن وسلامتی پھیلانے کے لئے قائم فرمایا ہے۔ہمیں یہ اچھی طرح یاد ہے کہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوسرے سفر یورپ پر روانہ ہونے سے پہلے اور اپنی بیماری کے ایام میں بھی جماعت کو منافقوں کے فتنہ سے خبر دار اور ہوشیار کر دیا تھا۔اور فرمایا تھا کہ سچا مومن تو اگر اسے اپنے عقائد حقہ کی حفاظت کے لئے اپنے باپ سے بھی لڑنا پڑے تو اس کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اور اس کا بھی مقابلہ کرتا ہے۔اور آپ نے ابی بن ابی سلول کی مثال بیان فرمائی تھی کہ دیکھو اس کے بیٹے نے اپنے باپ سے کیسا سلوک کیا اور اسے مجبور کر دیا کہ وہ خود اپنی زبان سے اقرار کرے کہ وہ خود ہی ذلیل ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں کی تدابیر اور سکیمیں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اپنے مرکز سے باہر ہونے اور سفر یورپ کے ایام میں کارگر نہیں ہوسکیں۔اور نہ ہی حضور کے سفر یورپ سے واپس آجانے کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکے بلکہ وہ بری طرح اپنے مقصد میں ناکام و نامراد ہوئے۔جیسے ان سے پہلے آج تک جو شخص بھی خلافت کے خلاف اٹھا نا کام رہا۔مکرر عرض ہے کہ ہم ہر ایک فتنہ کو جو حضور کی خلافت مقدسہ اور منصب خلافت کے خلاف اٹھایا جائے سخت نفرت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور اپنے امام اور آقا حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے اپنے عہد وفاداری اور اطاعت کی تجدید کرتے ہیں اور حضور سے اپنے لئے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں۔اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضور کو عزت پر عزت عطا فرمائے اور مدد پر مدد فرمائے اور کامل شفاء بخشے اور ہر شخص جو حضور کا دشمن ہو اسے بے یارو مددگار بنائے۔اور اسے اس کے مقصد میں نا کام رکھے۔والسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ۔ہم ہیں حضور کے خادم دستخط جمله ممبران جماعت احمد یہ شام (الفضل 25 اکتوبر 1956 ، صفحہ 1)