مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 577
549 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم مطابق اپنے حقیقی بھائی کو مصر میں روکنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ تدبیر کی کہ حضرت یوسف علیہ السلام سے بھلوا کر شاہی پیمانہ جو تھا اپنے بھائی کے سامان میں رکھوا دیا کی اور تلاشی لینے پر اُن کے بھائی کے سامان میں سے ہی وہ پیما نہ نکل آیا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر کے کافر اور مشرک بادشاہ کے قانون کے پابند تھے۔دنیاوی معاملات میں حضرت یوسف علیہ السلام کافر بادشاہ کے قانون کی پابندی اور وفاداری سے اطاعت کے باوجود دینی امور میں اس کے غلط عقائد کی پابندی اور اطاعت نہیں کرتے تھے۔“ أولو الأمر منكم سے مراد بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اولوالاً مرصرف مسلمانوں میں سے ہی ہوسکتا ہے۔اس بناء پر غیر مسلم حاکم کے خلاف نکل کھڑے ہونے اور فتنہ وفساد برپا کرنے کو جائز سمجھا جاتا ہے۔حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں اس موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں حکم ہے اَطِيْعُوا الله واَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَأوْلِي الأمْرِ مِنْكُمْ۔یہاں اُولی الامر کی اطاعت کا حکم صاف طور پر موجود ہے۔اور اگر کوئی شخص کہے کہ منگم میں گورنمنٹ داخل نہیں تو یہ اس کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو حکم شریعت کے مطابق دیتی ہے وہ اسے منگم میں داخل کرتا ہے۔مثلاً جوشخص ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہم میں داخل ہے۔اشارة النص کے طور پر قرآن کریم سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہئے اور اس کے حکم مان لینے چاہئیں۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 171 مطبوعہ ربوہ ) فرمایا کہ " اولی الامر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اُس سے مذہبی فائدہ ہمیں 66 حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے۔ضرورت الامام۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 493)۔۔۔۔أولى الأمرِ مِنْكُم سے مراد صرف مسلمان حکمران نہیں۔اس بارے میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض مسلمان غلطی سے اس آیت کے