مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 578
550 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم معنی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکم صرف مسلمان حکام کے حق میں ہے کہ اُن کی اطاعت کی جاوے۔لیکن کی یہ بات غلط ہے اور قرآنِ کریم کے اصول کے خلاف ہے۔بیشک اس جگہ لفظ مِنْگم کا پایا جاتا ہے ہے۔مگر منگم کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو تمہارے ہم مذہب ہوں بلکہ اس کے یہی معنی ہیں کہ جو تم میں سے بطور حاکم مقرر ہوں۔من ان معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کفار کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اَلَمْ يَاتِكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ (الانعام : 131 )۔اس آیت میں منگم کے معنی اگر ہم مذہب کریں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نعوذ باللہ من ذالک ، رسول ا کفار کے ہم مذہب تھے۔پس ضروری نہیں کہ منگم کے معنی ہم مذہب کے ہوں۔یہ اور معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ حاکم جو تمہارے ملک کے ہوں یعنی یہ نہیں کہ جو حاکم ہو اُس کی اطاعت کرو بلکہ اُن کی اطاعت کرو جو تمہارا حاکم ہو۔“ ہماری تعلیم قتل وغارت گری اور توڑ پھوڑ کے بارہ میں حضور انو رایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا یہ اقتباس پیش فرما کر جماعتی موقف کی وضاحت فرمائی: بعض جماعتیں ایسی ہیں جو بغاوت کی تعلیم دیتی ہیں۔بعض قتل و غارت کی تلقین کرتی ہیں۔بعض قانون کی پابندی کو ضروری نہیں سمجھتیں۔ان معاملات میں کسی جماعت سے ہمارا تعاون نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ ہماری مذہبی تعلیم کے خلاف امور ہیں۔اور مذہب کی پابندی اتنی ضروری ہے کہ چاہے ساری گورنمنٹ ہماری دشمن ہو جائے اور جہاں کسی احمدی کو دیکھے اُسے صلیب پر لٹکانا شروع کر دے پھر بھی ہمارا یہ فیصلہ بدل نہیں سکتا کہ قانونِ شریعت اور قانونِ ملک کبھی تو ڑا نہ جائے۔اگر اس وجہ سے ہمیں شدید ترین تکلیفیں بھی دی جائیں تب بھی یہ جائز نہیں کہ ہم اس کے خلاف چلیں“۔( الفضل 6 اگست 1935 ءجلد 23 نمبر 31 صفحہ 10 کالم 3) نصیحت کا نچوڑ اور ہدایات کا خلاصہ حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش فرمایا جو اس سارے