مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 576
548 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم حدیث کو پیش کر کے فرمایا: اس حدیث کی شرح میں ) امام ملا علی قاری لکھتے ہیں۔۔۔۔ہمارے بعض علماء کہتے ہیں کہ نا پسندیدہ کام کو ہاتھ سے تبدیل کرنے کا حکم حکمرانوں کے لئے ہے۔زبان سے تبدیل کرنے کا حکم علماء کے لئے ہے اور دل سے ناپسندیدہ بات کو نا پسند کرنے کا حکم عوام مومنین کے لئے ہے۔(مرقاۃ شرح مشكاة - جز 9 صفحہ نمبر 324) پس یہ اس حدیث کی بڑی عمدہ وضاحت ہے کہ تین باتیں تو ہیں لیکن تین باتیں تین مختلف طبقوں کے لئے اور صاحب اختیار کے لئے ہیں۔اگر ہر کوئی اس طرح رو کنے لگ جائے گا تو پورا ایک فساد پیدا ہو جائے گا۔اور فساد اور بدامنی کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كم وَاللهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ۔سورۃ بقرۃ کی آیت 206 ہے کہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔اگر یہ مراد لی جائے کہ عوام حکمران کی کسی بات کو نا پسند کریں تو وہ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور توڑ پھوڑ اور فتنہ و فساد اور قتل و غارت اور بغاوت شروع کر دیں تو یہ مفہوم بھی شریعت کی ہدایت کے مخالف ہے۔اس بارہ میں قرآنِ کریم کا جو حکم ہے، فیصلہ ہے وہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں کہ وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ (النحل: 91) “ حکومت وقت کی اطاعت کے بارہ میں انبیاء کا نمونہ انبیاء کا حکومتِ وقت کی اطاعت کے بارے میں کیا نمونہ رہا ہے؟ قرآن کریم نے دو درجن کے قریب انبیاء، بیس پچپیں انبیاء کے حالات بیان فرمائے ہیں مگر کسی نبی کی بابت یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اُس نے دنیاوی معاملات میں اپنے علاقے کے حاکم وقت کی نافرمانی یا بغاوت کی ہے۔یا اُس کے خلاف اپنے متبعین کے ساتھ مل کر مظاہرے کئے ہوں یا کوئی توڑ پھوڑ کی ہو۔دینی امور کے بارے میں تمام انبیاء نے اپنے اپنے علاقوں کے حکمرانوں کے غلط عقائد کی کھل کر تردید کی اور سچے عقائد کی پر زور تبلیغ کی۔۔۔۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: كَذلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللهُ (یوسف: 77)۔اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی۔اس کے لئے ممکن نہ تھا کہ اپنے بھائی کو بادشاہ کی حکمرانی میں روک لیتا سوائے اس کے کہ اللہ چاہتا۔یعنی حضرت یوسف علیہ السلام بادشاہ مصر کے قانون کے