مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 563 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 563

مصالح العرب۔جلد دوم نے فرمایا: 535 ”ہمارے پاس دنیاوی حکومت اور وسائل تو نہیں جس سے ہم مسلمانوں کی عملی مدد بھی کر سکیں یا کسی بھی ملک میں اگر ضرورت ہو تو کر سکیں ، خاص طور پر بعض ممالک کی موجودہ سیاسی اور ملکی صورتِ حال کے تناظر میں ہمارے پاس یہ وسائل نہیں ہیں کہ ہم جا کر مدد کر سکیں۔ہاں ہم دعا کر سکتے ہیں اور اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینی چاہئے۔“ عملی مدد کی ایک کوشش کرنے کی ہدایت نے فرمایا: حضور انور نے ان حالات میں احمدیوں کو اپنا کردار ادا کرنے کی ہدایت فرمائی، آپ جو احمدی ان ممالک میں بس رہے ہیں یا اُن ممالک کے باشندے ہیں جن میں آج کل بعض مسائل کھڑے ہوئے ہیں، اُن کو دعا کے علاوہ اگر کسی احمدی کے ارباب حکومت یا سیاستدانوں سے تعلق ہیں تو انہیں اس بات کی طرف بھی توجہ دلانی چاہئے کہ اپنے ذاتی مفادات کے بجائے اُن کو قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہئے۔“ پھر فرمایا: میں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے احمدی جو عرب ملکوں میں بھی رہتے ہیں یا اُن کا اسلامی حکومتوں کے سیاستدانوں اور لیڈروں سے بھی کوئی تعلق ہے یا رسوخ ہے تو اُن کو بتائیں کہ اگر تم نے ہوش نہ کی ، انصاف اور تقویٰ کو قائم کرنے کے لئے بھر پور کوشش نہ کی ، مُلاں کے چنگل سے اپنے آپ کو نہ نکالا، شدت پسند گروہوں پر کڑی نظر نہ رکھی تو کوئی بعید نہیں کہ مُلاں مذہب کے نام پر بعض ملکوں میں حکومت پر مکمل قبضہ کرنے کی کوشش کرے۔اور پھر مذہب کے نام پر ایسے خوفناک نتائج سامنے آئیں گے جو عوام کو مزید اندھیروں میں دھکیل دیں گے۔مذہب کے نام پر ایک فرقہ دوسرے فرقے پر ظلم کرتا چلا جائے گا۔اور اس فساد کی صورت میں پھر بڑی طاقتوں کو متعلقہ ملکوں میں اپنی مرضی سے در آنے کا پروانہ مل جائے گا۔امن کے نام پر وہاں آ کر بیٹھ جانے کا اُن کو آپ لائسنس دے دیں گے، جس سے پھر فساد ہوگا، جانوں کو نقصان ہوگا، املاک کا نقصان ہوگا اور بالواسطہ یا بلا واسطہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے جانے کا انتظام بھی ہو