مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 564 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 564

536 مصالح العرب۔۔۔جلد دوم سکتا ہے بلکہ یقینی طور پر ہو گا۔اور سب سے بڑھ کر یہ جیسا کہ میں نے کہا کہ ایک وسیع جنگ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، لے لے گی۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور مسلم امہ کو اور ان کے رہنماؤں کو عقل دے، سمجھ دے کہ خدا تعالیٰ کا خوف دلوں میں پیدا کرنے والے ہوں۔“ خرابی کی نشاندہی جماعت احمدیہ کے فرض اور عملی کوشش کے ذکر کے بعد حضور انور نے ان حالات کا نہایت حکیمانہ تجزیہ فرماتے ہوئے اس خرابی کی نشاندہی فرمائی جو اس فساد کی جڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس ضمن میں مختلف حکام کی ایک مشترکہ غلطی کا ذکر کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا: عموماً مسلمان ارباب اختیار اور حکومت جب اقتدار میں آتے ہیں، سیاسی لیڈر جب اقتدار میں آتے ہیں یا کسی بھی طرح اقتدار میں آتے ہیں تو حقوق العباد اور اپنے فرائض بھول جاتے ہیں۔اس کی اصل وجہ تو ظاہر ہے تقویٰ کی کمی ہے۔جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہوتے ہیں، جس کتاب قرآنِ کریم پر ایمان لانے اور پڑھنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اُس کے بنیادی حکم کو بھول جاتے ہیں کہ تمہارے میں اور دوسرے میں مابہ الامتیاز تقویٰ ہے۔اور جب یہ امتیاز باقی نہیں رہا تو ظاہر ہے کہ پھر دنیا پرستی اور دنیاوی ہوس اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔گو مسلمان کہلاتے ہیں، اسلام کا نام استعمال ہو رہا ہوتا ہے لیکن اسلام کے نام پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی پامالی کی جا رہی ہوتی ہے۔دولت کو ، اقتدار کی ہوس کو ، طاقت کے نشہ کو خدا تعالیٰ کے احکامات پر ترجیح دی جا رہی ہوتی ہے یا دولت کو سنبھالنے کے لئے ، اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے غیر ملکی طاقتوں پر انحصار کیا جا رہا ہوتا ہے۔غیر طاقتوں کے مفادات کی حفاظت اپنے ہم وطنوں اور مسلم امہ کے مفادات کی حفاظت سے زیادہ ضروری سمجھی جاتی ہے اور اس کے لئے اگر ضرورت پڑے تو اپنی رعایا پر ظلم سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔پھر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ دولت کی لالچ نے سر براہانِ حکومت کو اس حد تک خود غرض بنا دیا ہے کہ اپنے ذاتی خزانے بھرنے اور حقوق العباد کی ادنی سی ادائیگی میں بھی کوئی نسبت نہیں رہنے دی۔اگر سو (100) اپنے لئے ہے تو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے لئے ہے۔جو خبریں باہر نکل رہی ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ کسی سر براہ نے سینکڑوں کلو گرام سونا باہر نکال دیا تو کسی نے اپنے تہ خانے