مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 557
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 529 کے ساتھ مل کر مرحوم کی نماز جنازہ غائب ادا کی۔اس بات نے میرے ساتھیوں کے بھی حوصلے مزید بلند کئے اور ان میں ایک عجیب ایمانی جوش کی روح پھونک دی۔میں سمجھتا ہوں ایسا خلیفہ وقت کے ارشاد کی تعمیل کی برکت سے ہوا۔فالحمد للہ علی ذلک۔قارئین کرام ! مصائب پر احمدیوں کا غیر معمولی صبر اور نہایت پر وقار طریق پر ان کو برداشت کر جانا ان کی قربانیوں کو حسن و جمال کی خلعتیں پہنا جاتا ہے، اور ان کی اس حالت کو چشم حیران بن کر د یکھنے والے شاید بزبان حال یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ : دردِ غم فراق کے یہ سخت مرحلے حیراں ہوں میں کہ پھر بھی تم اتنے حسیں خلیفہ وقت کی شفقت اور ذکر خیر رہے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مکرم ڈاکٹر حاتم صاحب کے بیٹے کی وفات پر خطبہ جمعہ میں ان کا ذکر خیر بھی کیا اور نماز جنازہ غائب بھی پڑھائی۔حضور انور نے فرمایا: ” ہمارے مصر کے ایک احمدی احمد محمد حاتم علمی شافعی ، یہ 20 مئی کو گردے فیل ہونے کی وجہ سے جوانی کی عمر میں ہی فوت ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔۔۔۔۔یہ ڈاکٹر محمد حاتم صاحب کے بڑے بیٹے تھے، اور علمی شافعی صاحب مرحوم کے پوتے تھے۔یہ بچپن سے معذور تھے۔اور wheel chair پر تھے۔لیکن اس کے باوجود بڑے صبر سے اپنی بیماری برداشت کرتے رہے اور اپنی والدہ کو بھی کہتے تھے کہ میں صبر سے سب کچھ برداشت کرتا ہوں پریشان نہ ہوں۔ان کی والدہ کہتی ہیں کہ میں حیران ہوتی تھی ان کا صبر دیکھ دیکھ کے۔اور تسلی جب ان کو دلائی جاتی، جب بیماری ان کی بڑھی ہے، تو خود ہی اپنی والدہ کو، اپنے عزیزوں کو بڑی تسلی دیا کرتے تھے۔والدہ نے کہا کہ سب بہن بھائیوں سے بڑھ کر یہ ہماری اطاعت کرنے والے تھے۔اور ان کے والد ڈاکٹر حاتم شافعی صاحب۔۔۔۔۔صدر جماعت بھی ہیں۔تو وہ جیل میں تھے جب یہ فوت ہوئے ہیں۔باوجود معذوری کے، معذور تو تھے لیکن بزنس کی ڈگری انہوں نے لی ہے، پڑھتے رہے ہیں۔کمپیوٹر کے کورس کئے ہوئے تھے۔اور یہ بڑا ارادہ رکھتے تھے کہا۔پنے دادا