مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 556
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 528 کرتے ہوئے وہ بیان کرتے ہیں کہ : میرا بڑا بیٹا احمد الشافعی پہلے ہی پیار تھا، میری گرفتاری کا اس کی طبیعت پر بہت گہرا اثر ہوا اور اس کی صحت دن بدن گرنے لگی۔میری عدم موجودگی میں میری بیوی امیرہ ہاشم صاحبہ اس کی دیکھ بھال کرتی رہیں۔اسی دوران میری بیوی کو بھی صدر لجنہ کی حیثیت سے کام کرنے کی بنا پر گرفتار کرلیا گیا۔ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور ان پر بھی وہی دفعہ لگائی گئی جس کی بنا پر ہمیں جیل میں رکھا گیا تھا۔ایک رات جیل میں رکھنے کے بعد اگلے دن ہی ہمارے وکیل عادل رمضان صاحب (جو انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے لئے کام کرتے ہیں ) نے میرے بیٹے احمد الشافعی کی بیماری کی مختلف طبی رپورٹس پیش کر کے ثابت کیا کہ اس بچے کی گرتی ہوئی صحت کے پیش نظر اس کی ماں کا ہر وقت اس کے ساتھ رہنا ضروری ہے لہذا عدالت نے میری اہلیہ کو جانے کی اجازت تو دے دی لیکن تفتیش کے لئے عدالت میں آتے رہنے کا پابند کیا۔لہذا وہ کئی دن تی تک تفتیش کے لئے جاتی رہیں اور یہ تفتیشی عمل کئی کئی گھنٹوں تک ممتد رہا۔ابھی یہ سلسلہ چل ہی رہا تھا کہ میرے بیٹے کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی جس کا نتیجہ kidney failure کی صورت میں ظاہر ہوا۔مختلف چیک اپ اور Dialysis کے لئے احمد کو ہسپتال داخل کروانا پڑا۔گردوں کے فیل ہو جانے کی بنا پر اسے کسی طبی کوشش نے کوئی فائدہ نہ دیا اور مختصر علالت کے بعد وہ خاموشی سے 20 رمئی 2010ء کو اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ طرہ جیل میں ہم سے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہ تھی، نیز میرے اہل خانہ نے خیال کیا کہ جیل میں میرے لئے یہ خبر مزید دکھ کا باعث ٹھہرے گی لہذا مجھے میرے بیٹے کی وفات کے بارہ میں کچھ نہ بتایا۔لیکن جب حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں اس بات کی اطلاع دی گئی تو حضور انور نے فرمایا کہ حاتم صاحب کو اس بارہ میں بتا دیں۔“ جیل میں صرف کپڑے بھجوانے کی اجازت تھی چنانچہ میری اہلیہ نے کپڑوں کے ساتھ مختلف دعائیں ارسال کر دیں جو وفات کے موقعہ پر انہوں نے پڑھنے کے لئے پرنٹ کی تھیں، جن کے ذریعہ مجھے یہ خبر وفات کے دس دن بعد ملی۔مجھے طبعی طور پر اس کی جدائی کا بہت زیادہ حزن و ملال ہوا، اور کچھ دیر غم والم کی گھٹا بھی چھائی لیکن الحمد للہ کہ جلد ہی چھٹ گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایک خاص سکینت اور اطمینان سے میرا دل بھر دیا۔چنانچہ میں نے جیل میں ہی اپنے ساتھیوں