مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 555
527 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم بنا پر ہمارے مصری احمدیوں کو ایسے عجیب طریق پر جیل کی کال کوٹھڑیوں میں جکڑ کے رکھا گیا۔کی اس لئے وضاحت کے لئے عرض ہے کہ مصری صدر حسنی مبارک نے حکومت خلاف ہونے والی ہر قسم کی شورش کو کچلنے کا یہ انوکھا طریق اپنایا کہ ایمر جینسی کے نام سے ایک قانون نافذ کر دیا جس کا دائرہ اس قدر وسیع رکھا گیا کہ جہاں چاہے لاگو ہو جائے۔لہذا گزشتہ 30 سال سے یہ قانون جاری تھا اور اس کی بنا پرحکومت جب چاہتی تھی اور جسے چاہتی تھی اور جیسے چاہتی تھی پکڑ کر جیل میں ڈال دیتی تھی۔ہمارے ان اسیران راہ مولیٰ بھائیوں کی ابتدائی گرفتاری اور مقدمہ کے بغیر جیل میں رکھنے کی کارروائی اسی ایمر جینسی والے قانون کے ماتحت کی گئی۔دوسرا قانون ازدراء الأديان“ یعنی تو ہین ادیان کے نام سے بنایا گیا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ مصر میں عیسائی بھی خاصی بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔اور عیسائیوں و مسلمانوں کا آپس میں اکثر مذہبی بنیاد پر جھگڑا رہتا ہے لہذا اس قانون کے تحت ہر ایک کو اس بات کا پابند کر دیا گیا کہ وہ دوسرے کے مذہب پر حملہ نہ کرے ورنہ یہ تو ہین دین کے زمرہ میں آئے گا۔لیکن اس قانون میں اس قدر گنجائش موجود تھی کہ ہر دو مذاہب کے لوگ چھوٹی سے چھوٹی بات کو معقول وجہ قرار دے کر اس قانون کے تحت فریق ثانی کے خلاف دعوی دائر کرتے رہے ہیں۔جب مصری پادری نے اسلام پر حملہ کیا تو نہ صرف مصری آرتھوڈ کس چرچ سے استعفیٰ دے دیا بلکہ ارض مصر سے باہر نکل کر ایسا کیا تا کہ وہ بھی اس قانون کی زد سے بچ جائے اور باقی عیسائیوں پر اس کا الزام نہ آئے۔پھر جب جماعت احمدیہ کی طرف سے ایم ٹی اے العربیہ پر اس عیسائی حملے کا منہ توڑ جواب دیا گیا اور یہ پروگرامز مصری سیٹلائیٹ نائل ساٹ کے ذریعہ مصر میں بھی دیکھے اور سنے گئے تو اسی قانون کا سہارا لیتے ہوئے مصری عیسائیوں نے ایم ٹی اے العربیہ کو نائل ساٹ سے بند کروانے کی کوشش کی۔اور اب اسی قانون کو استعمال کرتے ہوئے حکومتی اداروں نے گرفتار احمدیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے عقائد وافکار کے لحاظ سے دین اسلام کی اہانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔در د غم فراق کے یہ سخت مرحلے مکرم ڈاکٹر حاتم صاحب کی اسیری کے دوران ان کے بیٹے کی وفات ہو گئی اس کا ذکر