مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 554 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 554

مصالح العرب۔جلد دوم رہیں۔مکرم ڈاکٹر حاتم الشافعی صاحب بیان کرتے ہیں کہ: 526 ڈیڑھ ماہ کی تعذیب کے بعد ہم سب کو ہائی سیکورٹی والی ”طر " جیل میں منتقل کر دیا جہاں ہم سب کو چند دن کے لئے علیحدہ علیحدہ کو ٹھریوں میں بند کر کے رکھا گیا جس کے بعد دو گروپس میں تقسیم کر کے دو بڑے جیل خانوں میں منتقل کر دیا گیا۔5 احباب ایک جیل خانہ میں جبکہ 4 دوسرے میں تھے۔یہ تقسیم ہمارے لئے نسبتا بہتر تھی ایک تو کمرے کھلے تھے دوسرے اکٹھے ہونے کی وجہ سے نماز با جماعت کی ادائیگی کی توفیق مل جاتی تھی نیز مل بیٹھنے اور باہم بات چیت کر لینے سے حوصلے مزید بلند ہو جاتے تھے۔چنانچہ احباب جماعت جیل میں خدا تعالیٰ کے اس فضل پر شکر گزاری کے جذبات سے لبریز تھے۔اس جگہ منتقل ہونے کے ایک روز بعد یعنی 2 رمئی 2010ء کو Supreme State | Security Prosecution کے سامنے میرے اور مکرم خالد عزت صاحب کے ساتھ تفتیش شروع ہوئی۔ہمارے خلاف دین اسلام کی توہین کے ارتکاب کا الزام لگا کر مقدمہ دائر کیا گیا جس کا نمبر 357/2010 ہے۔کیونکہ ان کی دانست میں ہمارا جماعت کے ساتھ تعلق رکھنا اور جماعت کے عقائد اور افکار کی تبلیغ کرنا دین اسلامی کی توہین کے مترادف ہے۔بہر حال روزانہ ہم دونوں کے ساتھ کئی کئی گھنٹوں تک ممتد رہنے والے طویل دورانیہ کے تفتیشی سیشن ہوئے۔ہم اس طویل ترین تفتیش سے بہت خوش تھے کیونکہ ہمیں وہ سب کچھ بلا خوف وخطر کہنے کی توفیق ملی جس کے عام اظہار پر قدغنیں لگی ہوئی تھیں۔ہم نے بتفصیل تمام الزامات اور اعتراضات کے جواب پیش کئے اور اپنا موقف کھل کر بیان کیا۔اور الحمد للہ کہ اس ساری کاروائی کو ساتھ کے ساتھ تحریر میں لا کر بھی عدالتی ریکارڈ میں محفوظ کیا جاتا رہا۔ہمارے بعد دیگر سات دوستوں کے ساتھ بھی اسی طرح کی تفتیش ہوئی اور یہ سلسلہ ایک ماہ تک یعنی مئی 2010ء کے آخر تک جاری رہا۔دو ظالمانہ قوانین قارئین کرام کے ذہنوں میں یہ سوال ضرور پیدا ہوا ہوگا کہ آخر یہ کونسا قانون ہے جس کی