مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 553
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم ہو گیا کہ ان کا احمدیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تو ان کو رہا کر دیا گیا۔525 یوں پہلے گروپ میں گرفتار ہونے والے احباب جماعت سب سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے اور ان کے خلاف ہی با قاعدہ مقدمہ چلا اور طوالت اختیار کرتا گیا حتی کہ انہیں 84 دن تک جیل کی کال کوٹھڑیوں میں رہنا پڑا۔اس لئے ہم ذیل میں اسی پہلے گروپ کے بارہ میں ہی بات کریں گے۔گرفتاری کی کارروائی مورخہ 15 مارچ 2010 کی صبح صادق کے وقت سابق وزیر داخلہ کے حکم سے پولیس کی بھاری نفری جو کہ اسلحہ سے لیس تھی ان احمدیوں کے گھروں میں گھس گئی جہاں وہ دہشت پھیلاتے ہوئے نہ صرف ان احباب کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے بلکہ ان کے ساتھ ان کے گھروں میں موجود جماعتی کتب، لٹریچر اور کمپیوٹرز کے علاوہ بعض ذاتی استعمال کی اشیاء بھی اٹھاتی کر لے گئے۔تفتیش یا تعذيب؟! گرفتاری کی کارروائی کے بعد ان احباب کو اپنے اپنے علاقے کے لحاظ سے علیحدہ علیحدہ جیلوں میں رکھا گیا اور State Security Investigations کے آفیسرز نے ان سے تفتیش شروع کی۔دوران تفتیش ان کے ہاتھ بیڑیوں میں جکڑے اور آنکھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہوتی تھیں۔علاوہ ازیں بعض احباب کو دوران تفتیش گالی گلوچ ، اہانت آمیز سلوک اور جسمانی اذیت کے علاوہ بعض حساس مقامات پر بجلی کے شارٹ بھی لگائے گئے۔قانون کی آڑ میں اس غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک کا شکار ہونے کے باوجود یہ وفا کے پتلے اپنے جرم کے اقرار سے باز نہ آئے اور جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعتراف کرتے رہے۔الغرض یہ سلسلہ ڈیڑھ ماہ تک جاری رہا، جس میں ان کے خلاف الزامات کے پلندے تیار کئے گئے تا کہ ان کی بنا پر مقدمہ درج کیا جائے اور پھر کیس چلایا جائے۔اس ڈیڑھ ماہ کے عرصہ میں جزوی طور پر فیملی ممبرز کے ساتھ ملاقات کی اجازت تھی لہذا ان احباب کی اپنے اہل خانہ سے ملاقاتیں ہوتی