مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 525
مصالح العرب۔جلد دوم 497 انہیں ماتم ہمارے گھر میں شادی صد سالہ خلافت جوبلی کی تقریبات ایک ایسی بے مثال خوشی کا موقع تھا جس کا صحیح اندازہ صرف اور صرف افراد جماعت احمدیہ ہی لگا سکتے ہیں۔یہ دن نعمت خداوندی کے استمرار ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے اور احمدیوں کے اس نعمت سے بہرہ مند ہونے پر اظہار تشکر کے دن تھے۔در حقیقت جو بلیاں اور خوشیاں منانے کا ہمارا نقطہ نظر اور انداز پوری دنیا سے مختلف ہے۔خوشیوں کا دن ہمارے لئے دنیا جہان کی لذتوں میں گم ہونے اور مادر پدر آزاد ہونے اور اسراف و فضول خرچی کا نام نہیں ہے بلکہ خدا کی نعمتوں پر شکر کرنے سے عبارت ہے۔پھر ہماری یہ خوشیاں صرف ایک دن تک ہی محدود نہیں رہتیں بلکہ شکر کے سلسلے اس معین دن میں دو چند ہو جاتے ہیں جس کے بعد ایک نئے رنگ میں پہلے سے بڑھ کر حسین صورت میں جاری رہتے ہیں۔اس لحاظ سے جو بلی کی تقریبات اور خدا تعالیٰ کے شکر کے ساتھ خوشیاں منانے کا یہ دن صرف 28 مئی 2008 ء تک ہی محدود نہ رہا، نہ ہی اس سال تک اس پر عمل رہا بلکہ یہ تو ایک سلسلہ کی ابتدا تھی جو آج تک جاری ہے اور اگلی صدی تک جاری رہے گا جہاں سے پھر ہم ایک نئے عزم اور نئے ولولے کے ساتھ مزید آگے بڑھتے جائیں گے۔ایک کو تاہ نظر دنیا دار اور مغرب کے طور طریقوں کے پیچھے اندھا دھند بھاگنے والے کو ہمارا خوشیاں منانے کا طریق کیونکر پسند آئے گا۔ایمان و اخلاص کی فصلوں پر جب شکر و احسان مندی کے پھل لگتے ہیں اور خدا کی رحمت وافضال کی ہواؤں سے وہ فصلیں لہلہاتی ہیں اور ان پر انعامات و تائیدات اور نشانات ربانیہ کی جب پھوار پڑتی ہے تو الہی جماعتوں کی خوشی شکر کے