مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 526
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 498 جذبات میں ڈھل کر سجدوں کی صورت آستانہ الوہیت پر گرتی ہے۔یہ وہ خوشی ہے جس کا بیان ممکن نہیں۔یہ وہ لذت ہے جس کا ثانی کوئی نہیں اور اسی کو دیکھ کر کفار اور مخالفین طیش و غضب میں آجاتے ہیں اور یہی وہ روحانی فصلیں ہیں جو لِبَغِیظُ بِهِمُ الكُفَّار کا سبب بنتی ہیں۔ایسی ہی ایک صورت ہمارے عرب مخالفین کے ساتھ پیدا ہوئی۔ہوا یوں کہ جب دریا دہن پادری کے مزاعم کا مسلمانوں میں سے صرف اور صرف جماعت احمدیہ نے مؤثر جواب دیا اور مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت اور راہنمائی میں اس کام میں نمایاں خدمت کی توفیق ملی تو جماعت کے عرب مخالفین میں سے ”محمود القاعود نامی شخص نے مصطفیٰ ثابت صاحب کو خط لکھا کہ آپ اس جماعت سے کنارہ کش ہو جائیں۔چونکہ وہ جانتے تھے کہ دیگر مسلمانوں میں سے اس طرح کے مؤثر کام کی توفیق کسی کو نہیں ملی، اور اگر توفیق ملی تو ایک ایسی جماعت کو جسے وہ مسلمان ہی نہیں سمجھتے لہذا ان کے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو اس جماعت کو مسلمان سمجھیں اور یوں یہ پادری کے اعتراضات کا رڈ ، اسلام کی طرف سے شمار ہو یا دوسرا راستہ یہ ہے کہ اس شخص کو جماعت سے توڑ کر اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کی جائے جس نے اس حملہ کے رد میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔محمود القاعود جماعت کا شدید مخالف اور بد زبان ہے لیکن اس کے باوجود اس کے منہ سے ایک آدھ دفعہ کلمہ حق بھی نکل گیا ہے۔جب ایم ٹی اے 3 العربیہ کی نشریات بند کروانے کیلئے مصر کے قبطی چرچ کے مشیر نجیب جبرائیل نے کوششیں شروع کیں تو القاعود صاحب نے آرٹیکل لکھا جو آج تک انٹرنیٹ پر موجود ہے جس میں لکھا کہ اے جبرائیل کیا تجھے اب یہ رونا رونے کا خیال آیا ہے۔جب عیسائی پادری بد زبانی اور گندے اعتراضات کر رہا تھا اس وقت تم کہاں تھے؟ کیا اس وقت مسلمانوں کے جذبات مجروح نہیں ہوتے تھے؟ اب جماعت احمد یہ کے چینل نے اس کا رڈ کرنا شروع کیا تو اب تجھے یاد آیا کہ اس سے عیسائیوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں! وغیرہ وغیرہ۔اس کے اس مذکورہ آرٹیکل پر مصطفیٰ ثابت صاحب نے شاید انہیں شکریہ کا خط لکھا جس کے جواب میں انہوں نے ثابت صاحب کو جماعت احمدیہ سے دور ہونے کا مشورہ دیا۔بہر حال مصطفیٰ ثابت نے اس کے جواب میں ایک مفصل خط تحریر کیا جس کی ابتدا میں لکھا