مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 519
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 491 الحوار المباشر اور ایم ٹی اے 3 العربیہ کے بارہ میں معلومات درج کرنے کے بعد اب ہم اس عرصہ کے بعض متفرق امور کا ذکر کرتے ہیں۔وو مریم نے صلیب تو ڑ دی ہے 2005ء میں عیسائیت کا فتنہ عروج پر تھا۔اسی سال تفسیر کبیر کی جلد نمبر 5 کا ترجمہ ہورہا تھا جو سورہ مریم کی تفسیر سے شروع ہوتی ہے۔سورہ مریم کی ابتدا لھیعص کے مقطعات سے ہوتی ہے جس کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے لکھا ہے کہ مقطعات کے ان حروف سے مراد الہی صفات کافی و ہادی اور علیم و صادق ہیں جن کو عیسائیت نے نہ سمجھ کر غلط مذہب اختیار کیا اور انہی صفات سے کام لے کر ہم نے عیسائیت کا رد کر دیا۔چنانچہ آپ نے لکھا کہ ان حروف مقطعات میں عیسائی عقائد کا بطلان پوشیدہ ہے۔ان حروف مقطعات کی تفسیر جلد پنجم کے تقریباً 120 صفحات پر محیط ہے۔جب تغیر کبیر جلد پنجم کا عربی ترجمہ تیار ہو گیا تو حضرت خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عیسائیت کے رڈ پر مشتمل اس حصہ کو علیحدہ کتاب کی صورت میں شائع کرنے کا ارشاد فرمایا تا عیسائیت کے فتنہ کو فرو کرنے کیلئے زیادہ سے زیادہ مواد فراہم کیا جائے۔چنانچہ اس حصہ کو کتابی شکل میں تیار کیا گیا۔اب مرحلہ اس کے مناسب عنوان کا تھا جس کے لئے مختلف عرب احباب نے کئی نام تجویز کئے جن میں سے حضور انور نے مکرم تمیم ابو دقہ صاحب آف اردن کا تجویز کردہ نام ( مریم، تكسر الصليب ) منظور فرمایا جس کا مطلب ہے کہ سورۃ مریم نے صلیب توڑ کے رکھ دی ہے۔یہ نام کتاب کے مضمون کے عین مطابق اور مناسب حال ہے۔وو