مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 496
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم علیہ السلام کے خلاف عدالتوں میں شہادتیں دینے لگے۔468 عصر حاضر میں یہی واقعہ پھر دہرایا گیا۔غرض آج تک جماعت احمد یہ بھی اپنے موقف پر قائم ہے اور اپنا فرض نبھاتی آرہی ہے اور نام نہاد مولوی بھی اپنی اسی قدیم روش پر قائم ہیں۔مخالف احمدیت مولویوں کی روش۔۔۔جھوٹ کا پلندہ ایم ٹی اے 3 العربیہ کو بند کروانے کی قانونی کوششوں کے ساتھ ساتھ یا ان کے ایک حصہ کے طور پر عرب دنیا کے چند ایک مشہور مولوی حضرات نے (جن میں سے بعض کے اپنے ٹی وی چینل بھی ہیں ) جماعت کے عقائد کے بارہ میں نہایت نفرت انگیز پروگرام نشر کئے۔ان میں شیخی جمال المرا کمی، شیخ محمد حسان، شیخ محمد الزغمی، شیخ ابو اسحاق الحوینی اور ڈاکٹر حمدی عبید وغیرہ قابل ذکر ہیں۔باوجود اس کے کہ اب اس دور میں جماعت کا تمام لٹریچر انٹرنیٹ پر موجود ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تمام کتب دستیاب ہیں پھر بھی ان نام نہاد حق پرست علماء نے جماعت کے مخالفین کی لکھی ہوئی کتب سے ہی اعتراضات، اتہامات اور گالیاں نقل کیں اور خودان امور کے بارہ میں توثیق و تحقیق کرنے کی ادنی کوشش بھی نہ کی، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ سنی سنائی باتوں کو دہرا کر علی الاعلان کفر کے فتوے جاری کرنے لگ گئے ، اور بھول گئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا ہے کہ: كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ۔سَمِع۔( صحیح مسلم) یعنی کسی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ ہرسنی سنائی بات کو بیان کرتا پھرے۔ان میں سے ایک شیخ حسان ہیں (جنہوں نے بار بار اس بات کی رٹ لگائی کہ میں احمدیوں کا عقیدہ ان کی اپنی کتب سے بیان کر رہا ہوں ) انہوں نے ہندو پاک میں شائع ہونے والی سب وشتم اور بد زبانی و بد کلامی سے بھری ہوئی تحریرات عوام الناس کے سامنے پڑھ کر سنا ئیں جن میں اللہ تعالیٰ کے بارہ میں جماعت کی طرف منسوب کئے جانے والے بعض باطل عقائد کو خوب ابھارا اور دُہراؤ ہرا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا۔لیکن نقل را عقل باید۔اس شخص نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ سب باتیں احمدیوں کی کتب میں مذکور ہیں اور اگر میں آج کچھ ایسا پیش کروں جو ان کی کتب میں نہ ہو تو انہوں نے شور قیامت برپا کر دینا