مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 497 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 497

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 469 ہے۔لہذامیں بتاتا ہوں کہ یہ تمام باتیں مرزا غلام احمد کی کتاب ”البشری جلد 2 صفحہ 79 پر درج ہیں۔(http://www۔youtube۔com/watch?v=tKFhcS1R00A) آج سے بیس سال قبل اگر کوئی ایسی حرکت کرتا تو شاید یہ بہانہ بنا یا جا سکتا تھا کہ جماعت کی تمام کتب ہر جگہ میسر نہیں ہیں اس لئے کتاب کا نام لکھنے میں غلطی ہو گئی۔لیکن آج کے دور میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جملہ کتب انٹرنیٹ پر میسر ہیں اور ہر انسان اپنے گھر میں بیٹھ کر ان کا مطالعہ کر سکتا ہے، کیا ایسی حالت میں ان مولوی صاحب کا اخلاقی ، دینی اور صحافتی فرض نہ تھا کہ وہ کسی کی لکھی ہوئی تحریر کی بنا پر بدزبانی کی انتہا کرنے سے قبل یہ تو دیکھ لیتے کہ کیا مرزا صاحب نے اس نام کی کوئی کتاب لکھی بھی ہے یا نہیں۔لیکن ان کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ اس فرضی کتاب کو حضور علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے اس کی جلد اور صفحہ بھی بتائے جارہے ہیں۔پھر بار باررٹ بھی لگائے جارہے ہیں کہ یہ احمدیت کے وہ عقائد ہیں جو ان کی کتب سے بیان کئے جارہے ہیں۔اس پر ہم اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ : وتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِبُونَ (الواقعة : 83) یعنی تم اپنا رزق جھٹلا کر اور جھوٹ بول کر ہی کما رہے ہو۔تحفہ گولڑویہ ایک اور مولوی ڈاکٹر حمدی عبید صاحب ہیں جو جماعت کے خلاف ایک ویب سائٹ کی سر پرستی بھی کرتے ہیں۔انہیں زعم ہے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کی کتب اور عقائد کے بارہ میں سب سے زیادہ علم ہے۔انہوں نے بھی مختلف چینلز پر بہت سے پروگرام پیش کئے جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض کتب بھی لے آئے اور ان کو اٹھا اٹھا کے دکھایا اور کہا کہ یہ سب کتب جھوٹ کا پلندہ ہیں وغیر وغیرہ۔(نعوذ باللہ )۔آئیے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کو کس طرح سمجھا۔انہوں نے ایک پروگرام میں تحفہ گولڑویہ میں موجود خدا تعالیٰ کے ایک الہامی نامیلاش