مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 495
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 467 مواد کو بدل کر دوبارہ اسی سیٹیلائٹ پر آسکتے ہیں۔لیکن ہم نے دوٹوک کہہ دیا کہ ہم نہ تو اپنی شناخت بدلیں گے نہ ہی اس چینل پر نشر ہونے والے پروگرام تبدیل کئے جاسکتے ہیں۔چنانچہ چند دن کے بعد 18 فروری 2008ء کو ایم ٹی اے 3 کی نشریات ھاٹ برڈ پر شروع ہوگئیں جو بعد میں 24 اپریل کو یورو برڈ 9“ پر بھی جاری کر دی گئیں۔لیکن ان سیٹیلائٹس کے ذریعہ ہماری نشریات عربوں کی اکثریت کی پہنچ سے باہر تھیں اور بہت تھوڑی تعداد اس سے استفادہ کرتی سکتی تھی۔بالآ خر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خاص دعاؤں کی بدولت بفضلہ تعالیٰ 23 جون 2009ء کو دوبارہ نائل ساٹ پر ہماری نشریات بحال ہو گئیں جو خدا تعالیٰ کے خاص فضل وکرم سے آج تک جاری ہیں اور انشاء اللہ العزیز جاری وساری رہیں گی۔تم بھی مشغول ، ہم بھی ہیں مشغول ایم ٹی اے 3 العربیہ کی نائل ساٹ سے بندش کی کارروائی کے لئے مسلمانوں اور عیسائیوں کی متفقہ کوششیں کرنا جماعت کے مخالفین کے رویے کو کھول کر ہمارے سامنے لے آتی ہے۔جماعت کی تاریخ میں ایسا واقعہ بار بار ہوا ہے کہ جب جب فتنہ صلیب نے شدت پکڑی ہے، عامتہ المسلمین اور ان کے مشائخ و مولوی حضرات اس کا جواب دینے سے عاجز دکھائی دیئے ہیں اور ہر دفعہ اس حملہ کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے صرف اور صرف جماعت احمد یہ مرد میدان ثابت ہوئی ہے۔لیکن دوسری طرف ہر دفعہ جب پسپائی کے مارے مسلمانوں کے کانوں میں اسلام کی فتح کے نقارے کی آواز پڑنے لگی تو اس فتح کا حصہ بننے اور اس جماعت میں شامل ہونے کی بجائے یہ لوگ اس کی مخالفت پر اتر آئے ، بلکہ اس میں اس قدر بڑھ گئے کہ اسلام کے اسی دشمن کے ساتھ مل کر جماعت کے خلاف کارروائیاں کرنے لگے۔یہ واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ہوا۔جب اسلام کے اس بطل جلیل اور موعود کا سر صلیب نے عیسائی منادوں کے دانت کھٹے کئے تو مسلمان علماء جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آ جانا چاہئے تھا عیسائیوں کے ساتھ مل کر آپ پر کبھی جھوٹے مقد مے کرنے لگے اور کبھی قتل کے الزام لگانے لگے اور کبھی ان عیسائیوں کے ساتھ مل کر حضور