مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 432 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 432

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم عیسائیوں میں بڑا مقام رکھتے ہیں۔408 5 مئی 2006ء کے پروگرام میں انہوں نے کہا کہ : ”اس پروگرام کے بارہ میں جو بات مجھے سب سے زیادہ اچھی لگی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب کے لئے کھلا ہے، میں آپ کا یہ پُر شجاعت اقدام قابل رشک ہے۔اور ہم آپ کی وسعت حوصلگی کی داد دیتے ہیں اور آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اسی طرح انہوں نے 3 مارچ 2007 ء کے پروگرام میں جماعت احمدیہ کے بارہ میں ایک اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ: احمد یہ فرقہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ دین کے معاملہ میں جبر واکراہ اور طاقت کے استعمال کو جائز نہیں بجھتی۔اس لئے اس جماعت میں سے نہ کوئی دہشت گرد ہے نہ پُر تشد د خیالات کا حامل۔“ اسی طرح متعدد پروگرامز میں ان پر اتمام حجت ہوئی اور ان سے جواب نہ بن پڑا۔چنانچہ انہوں نے اس بات کا سہارا لیا کہ آپ مجھے جواب دینے کے لئے پورا وقت نہیں دیتے ، حالانکہ انہیں بعض اوقات ایک گھنٹہ تک فون لائن پر رکھا جاتا تھا۔کئی عیسائیوں نے جوش میں آکر فون کئے اور بعض نے کہا کہ اس پادری کو جواب دینے کا طریق نہیں آتا۔وغیرہ وغیرہ۔آخری بار جب ان کو گھیر کر لا جواب کیا گیا تو انہوں نے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ میں آپ سے گفتگو نہیں کروں گا اور اپنے پیروکاروں سے بھی کہوں گا کہ آپ کا پروگرام نہ دیکھیں۔لیکن اس کے باوجود لا تعداد عیسائی اور ان کے پادری الْحِوَارُ الْمُباشر میں شرکت کرتے رہے۔جب ایم ٹی اے 3 شروع ہوا اور نائل ساٹ پر اس کی نشریات مصر اور دیگر عرب ممالک میں بڑے پیمانے پر دیکھی اور سنی جانے لگیں تو عیسائی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔چنانچہ ایم ٹی اے کو نائل ساٹ سے بند کروانے کی کوششیں ہونے لگیں جس کے بارہ میں تفصیلی طور پر بعد میں لکھا جائے گا۔لیکن یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ اس کارروائی کے بارہ میں جب پادری عبد ا سیح بسیط کی رائے لی گئی تو انہوں نے کہا : ”آپ نے مجھے میرے لوگوں کے سامنے ایسے طور پر پیش کیا ہے کہ گویا میں لا جواب ہو