مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 427 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 427

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 403 پروگرام شروع کرنے کی فرصت نہیں) بہر حال ہم آپ کے چینل کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جس کی طریق پر آپ کہیں ہم آپ کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔“ اسی پروگرام میں حیفا سے مکرم یچی شنبور صاحب نے ڈاکٹر عزت عطیہ کی فون کال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: میں الا زہر کے ڈاکٹر صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے آ کر الا زہر کے مشائخ کا دفاع کیا اور کہا کہ ہر انسان اپنا دفاع خود کرے، لیکن جب افغانستان میں طالبان کی حکومتی نے بدھا کے مجسمے توڑ ڈالے تھے تو مسلمانوں کے قافلے ان کو بچانے کے لئے روانہ ہوئے تھے۔بلکہ اس سلسلہ میں جب شیخ الازہر پر بہت اعتراض ہوا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنا کردار ادا نہیں کیا تو انہوں نے اپنا تو بہت زیادہ دفاع کیا تھا، حالانکہ شیخ الا زہر کو چاہئے تھا کہ وہ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع بھی کرتے۔“ مسموم خیالات سے رہائی اسی پروگرام میں الجزائر سے مکرم عبد الرزاق قماش صاحب نے بھی فون کیا ( یہ دوست جماعت احمدیہ کی رڈ عیسائیت کی مہم سے متاثر ہو کر جماعت کے قریب ہوئے اور پھر کچھ عرصہ کی تحقیق کے بعد بیعت کر لی ، تاہم یہ فون کال بیعت سے پہلے کی ہے ) انہوں نے کہا: ” نہایت افسوس کی بات ہے کہ اس پادری کو کمزور مسلمانوں کی عقل و دماغ میں فساد بھرنے کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔اور اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پادری کی بدنی زبانیوں کا جواب دینے کے لئے مسلمان مبلغین بھی میدان سے غائب نظر آتے ہیں۔اس پادری کی کارروائی کے خطرناک نتائج جو سامنے آرہے ہیں ان میں سے ایک یہ ہوا کہ میرا بھائی بھی اس کے خیالات کے زیر اثر آ گیا۔لیکن بفضلہ تعالیٰ میں نے عیسائیت کے رد میں احمدیت کے طرز فکر کو استعمال کرتے ہوئے اس کو سمجھانا شروع کیا اور الحمد للہ میں اس سے پادری کے پھیلائے ہوئے ان زہر ناک خیالات کو دور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔لیکن میں سوچتا ہوں کہ کیا ہر بھٹکنے والے نوجوان کو کوئی سمجھانے والا مل سکے گا جو اسے پادری کے خطرناک خیالات کی زد سے باہر نکال لائے؟“