مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 426 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 426

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم 402 شمولیت اختیار کی اور الا زہر کا موقف بیان کیا۔انہوں نے کہا کہ: الازہر کو پادری کے کلام میں کوئی ایسی بات نہیں ملی جس کے کسی علمی رڈ کی ضرورت ہو۔عامة ا المسلمین پر واجب ہے کہ وہ کفر و ایمان سمجھ کر اور جھوٹ کو سچ سمجھ کر اختیار کرنے سے مجتنب رہیں۔اس لئے ہم عامتہ المسلمین کو خبر دار کرتے ہیں کہ ہر شخص جو کسی کتاب کی عبارتیں پیش کرتا ہے ضروری نہیں کہ اس نے وہ کتاب بھی پڑھی ہو۔یہاں اب معاملہ اپنے نفس کے دفاع کے مشابہ ہے جس کا ہر انسان خود ذمہ دار ہے۔ہاں جو الا زہر سے مدد کا مطالبہ کرے گا اسے مدددی جائے گی۔ہم آپ کا شکر یہ ادا کرتے ہیں اور آپ کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں۔“ ڈاکٹر عزت عطیہ صاحب کی اس بات کا مکرم مصطفیٰ ثابت صاحب نے یہ جواب دیا کہ الا زہر کو اور بہت سے کام ہیں اور یہ کام یعنی اس پادری کو جواب دینے کا کام شاید میرے جیسے عام آدمی کے ہی مناسب حال ہے۔اس پر مکرم تمیم صاحب کا تبصرہ بھی بہت مناسب تھا جنہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صرف تلوار کے ذریعہ ہی حملہ نہ کیا جاتا تھا بلکہ کفار کے شعراء اپنے اشعار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کے ذریعہ بھی حملے کرتے تھے۔اور تاریخ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حملوں کا بھی جواب دینے کا ارشاد فرمایا۔اس لحاظ سے ہم یہاں پر بیان کرنا چاہتے ہیں کہ ہم یہاں پر ایک جماعت کی حیثیت سے یہ کام کر رہے ہیں اور ہمارے خلیفہ حضرت مرزا مسرور احمد صاحب نے اس پادری کو جواب دینے کا ارشاد فرمایا ہے جس کے لئے مصطفیٰ ثابت صاحب اور دیگر افراد جماعت نے کوشش کی ہے۔کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کا رڈ کرنے سے اعراض انہیں تکبر و تمرد میں اور اہانت کے ارتکاب میں مزید بڑھائے گا۔اگلے دن مؤرخہ 14 مارچ 2006 ء کے پروگرام میں دینی سے تا مرحسین صاحب نے کہا کہ: کل الا زہر کے ڈاکٹر عزت عطیہ نے جو بات کی تھی میں اس کے بارہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں ازہر کے کئی مشائخ کے ساتھ ذاتی طور پر ملا ہوں جن کے نام یہاں لینے کی ضرورت نہیں اور ایسا پروگرام شروع کرنے کا کہا تھا جواب آپ نے شروع کیا ہے لیکن بالآخر ان کی تی طرف سے یہی آخری جواب تھا کہ الازہر کے پاس اپنے مسائل ہی کافی ہیں۔( یعنی ایسے