مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 337 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 337

317 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم یہ شخص ایک مصری ریٹائرڈ جنرل تھے۔پروگراموں میں شرکت کے بعد مکرم مصطفی ثابت صاحب اور خاکسار ان کے بلانے پر انکے گھر گئے جہاں انہوں نے اختلافی عقائد کی بحث چھیڑی تو مصطفی ثابت صاحب نے ایک ایک اختلافی مسئلہ لے کر مکمل تفصیل کے ساتھ ان کی تشفی کرائی۔بالآخر انہوں نے مان لیا کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی بچے مسیح موعود و امام مهدی ہیں۔لیکن نہ جانے ان کو کیا انقباض تھا کہ اس کے باوجود شکوک میں گرفتار رہے اور مصطفیٰ ثابت کی صاحب سے کہنے لگے کہ میں اس شرط پر ایمان لاتا ہوں کہ قیامت والے دن تم میرے اس ایمان کے ذمہ دار ہو گے۔مصطفیٰ ثابت صاحب نے کہا کہ قرآن کہتا ہے کہ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اخرای، یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی ہے۔لہذا میں اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آپ کا ذمہ کیونکر لے سکتا ہوں۔انگریز کا ایجنٹ ہونے کا الزام !! حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات پاک پر مخالفین کی طرف سے ایک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نعوذ باللہ برٹش ایجنٹ ہیں اس ضمن میں وہ آپ علیہ السلام کی سیالکوٹ میں ضلعی عدالت میں ملازمت کو دلیل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آپ کا برٹش گورنمنٹ کے ساتھ پہلا رابطہ تھا۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: آپ کے دشمن جو پاکستان، ہندوستان اور بعض عرب ممالک میں ہیں یہ الزام تراشی کرتے ہیں کہ آپ انگریز کا لگایا ہوا پودہ ہیں۔انگریز نے آپ کو اپنا ایجنٹ بنایا۔سیالکوٹ میں پہلی مرتبہ برٹش گورنمنٹ کے ساتھ آپ کا جس رنگ میں رابطہ ہوا اس کا مختصر حال میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔جس وقت سیالکوٹ کی ضلعی عدالت میں آپ نے ملازمت اختیار کی اس وقت آپ کی عمر 29 سال تھی۔آپ ایک معمولی کلرک تھے۔اس وقت کی برٹش گورنمنٹ کے خواب و خیال میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ وہ کسی 29 سالہ معمولی کلرک کو اپنی نمائندگی کے لئے مقرر کرے جو یہ دعوی کرے کہ میں مسیح موعود ہوں۔یہ تو ان مخالفین کی عقل وفراست کی انتہا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ وہ موقع ہے جب مرزا غلام احمد کا برٹش گورنمنٹ کے ساتھ رابطہ ہوا تھا۔لیکن یہ رابطہ کیسا تھا؟ وہ چھوٹے چھوٹے عیسائی پادری جو کچہری کے گرد چکر لگا کر عیسائیت کا پرچار کیا کرتے