مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 338
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 318 تھے آپ نے مسلمانوں کو ان پادریوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ان کا مقابلہ کیا اور آپ اس وقت مسلمانوں کی طرف سے چیمپیئن تھے۔اس طرح یہ لوگ آپ کو انگریز کا ایجنٹ بناتے ہیں۔ایجنٹ کون؟ ( لقاء مع العرب بتاريخ 7 مارچ 1995 ء ) ایک نشست میں حضور انور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں برٹش ایجنٹ ہونے کے غلط پروپیگنڈے کا ذکر کرتے ہوئے عربوں کو مخاطب کر کے فرمایا:۔میں خصوصاً عربوں کو سمجھانے کیلئے بیان کر رہا ہوں کہ وہ جو احمد یوں پر اس الزام کی رٹ لگائے ہوئے ہیں که احمدی برٹش ایجنٹ ہیں، بدقسمتی سے اس جھوٹ کی سزا میں اس وقت سارا عرب برٹش اور امریکہ کا ایجنٹ بنا ہوا ہے۔احمدیوں پر اس جھوٹے الزام کی سزا تو انہیں ضرور مل کر رہے گی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان کا یہ دعویٰ درست ہے کہ مرزا غلام احمد کو بچانے کیلئے برٹش گورنمنٹ آڑے آگئی تھی تو پھر وہ خدا کی عبادت کیوں کرتے ہیں؟ انہیں تو برٹش گورنمنٹ کی عبادت کرنی چاہئے ، اور یہی کچھ وہ کر رہے ہیں۔جس وقت بھی انہوں نے احمدیت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا احمدیت نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی اور ملکوں ملکوں میں پھیلتی چلی گئی۔۔۔خصوصاً عربوں کی ایک بڑی تعداد اب حلقہ بگوش احمدیت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا تھا ہم اسے برباد کر دیں گے۔ہم نے کہا ٹھیک ہے لگا لوزور جتنا لگا سکتے ہو۔اسی لئے ایک عجیب قسم کا ہیجان ان کے دلوں میں برپا ہے۔عبداللہ نصیف ( مدیر جامعہ ملک عبد العزیز سعودی مجلس شوری کے نائب رئیس اور سابق جنرل سیکرٹری رابطہ عالم اسلامی۔ناقل ) کو دیکھیں کیسی پریشانی لگی ہوئی ہے۔کہتا ہے کہ یہ کمتر اور بے حیثیت سے لوگ! انکی یہ جرأت اور مجال کہ ان کا اپنا مسلم ٹیلیویژن ہو اور ہم جو طاقتوں کے مالک ہیں اور دولت کے پہاڑوں پر براجمان ہیں ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم ایک بڑا مسلم ٹیلی ویژن قائم کریں گے جو حقیقی اسلامی ٹیلیویژن ہوگا پھر دیکھیں گے کہ یہ احمدی کہاں ٹھہرتے ہیں اور انکی کیا حیثیت ہے؟ میں بھی ایک پیش خبری کرتے ہوئے متنبہ کرتا ہوں۔۔۔قرآن کریم شیطان کو مخاطب