مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 336
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم اور آج کل یہیں پر مقیم ہیں۔ایک مصری غیر احمدی کی لقاء مع العرب میں شرکت 316 محترم علمی الشافعی صاحب کی وفات کے بعد لندن میں مقیم ایک مصری غیر احمدی نے حضور انور سے مل کر بعض سوالات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو حضور نے اسے لقاء مع العرب میں شامل ہونے کی اجازت مرحمت فرمائی۔اس نے پہلے پروگرام میں کہا کہ: میرا نام محمد احمد ابو حسین ہے میرا تعلق مصر سے ہے۔میرا تعلق اخوان المسلمین سے ہے۔حلمی شافعی صاحب میرے کولیگ تھے۔میں نے احمدیت کے بارہ میں بہت کچھ پڑھا ہے لیکن یہ سارا لٹریچر جماعت کے مخالفین کا لکھا ہوا ہے۔اسی طرح بعض پاکستانیوں نے بھی مجھے بہت عجیب و غریب باتیں بتائی ہیں۔میں نے ایم ٹی اے پر دیئے جانے والے فون نمبر کے ذریعہ رابطہ کیا تو میرے ساتھ محترمہ مہاد بوس صاحبہ نے بات کی پھر مکرم علمی الشافعی صاحب سے بھی فون پر بات ہوئی تو انہوں نے یہاں آنے کا کہا۔لیکن اسی اثناء میں وہ مصر چلے گئے۔بعد میں جب مکرم عبادہ صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ علمی صاحب کی وفات ہو گئی ہے۔میں تو یہ سن کر سکتہ میں آگیا۔ازاں بعد میں نے عبادہ صاحب سے عرض کیا کہ میں جماعت احمدیہ کے سربراہ حضرت امیر المؤمنین سے مل کر بعض سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔- ( 5 مارچ 1996 ء ) چنانچہ انہوں نے کئی سوالات پوچھے۔حضور انور نے باوجود اس کی طرف سے کثرت سوال اور بار بار بات کاٹنے کی عادت کے نہایت لطف و کرم اور دلی انبساط کے ساتھ اس کے ہر سوال کا کافی وشافی جواب عطا فرمایا۔گو کہ اس نے دو پروگراموں میں شرکت کے بعد حضرت مسیح موعود کے نام کے ساتھ علیہ السلام کہنا شروع کر دیا پھر بھی اسکے سوالات کا سلسلہ جاری رہا۔بہر حال پانچ پروگرامز میں انہیں شرکت کا موقعہ ملا اور حضور انور نے انکے تمام سوالوں کے جواب دیئے، بالآخر یہ کہہ کر یہ دوست چلے گئے کہ میں جماعت کے بارہ میں مزید پڑھوں گا اور ا سکے بعد آپ کے پاس دوبارہ آؤں گا۔مکرم عبادہ صاحب سے خاکسار نے اس شخص کے بارہ میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: