مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 330
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کہ غالبا یہ 1880 ء کی بات ہے۔310 شاید حضور کا مندرجہ ذیل اقتباس اس رویا کی تفسیر ہے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: اس وقت ہمارے دو بڑے ضروری کام ہیں، ایک یہ کہ عرب میں اشاعت ہو دوسرے یورپ پر اتمام حجت کریں۔عرب پر اس لئے کہ اندرونی طور پر وہ حق رکھتے ہیں۔ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہوگا کہ ان کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ خدا نے کوئی سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کو پہنچائیں، اگر نہ پہنچا ئیں تو معصیت ہوگی۔ایسا ہی یورپ والے حق رکھتے ہیں کہ انکی غلطیاں ظاہر کی جاویں کہ وہ ایک بندہ کو خدا بنا کر خدا سے دور جا پڑے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 253) حضور علیہ السلام نے اسی مذکورہ رویا کے بارہ میں مزید کچھ وضاحت اپنے ایک کشف کے ذیل میں بیان فرمائی۔آپ اپنے کشف : مَصَالِحُ الْعَرَبِ، مَسِيرُ الْعَرَبِ کے بارہ میں فرماتے ہیں: اس کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ عربوں میں چلتا۔شاید مقدر ہو کہ ہم عرب میں جائیں۔مدت ہوئی کہ کوئی چھپیں چھبیس سال کا عرصہ گزرا ہے ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعے پورے ہوتے ہیں۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیصر وکسری کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔“ ( بدر جلد 1 نمبر 23 ، مؤرخہ 7 ستمبر 1905 ء صفحہ 2 ، الحکم جلد 9 نمبر 32 مؤرخہ 10 ستمبر 1905 ، صفحہ 3) حضور علیہ السلام کے یہ الفاظ بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعے پورے ہوتے ہیں قابل غور ہیں۔ان الفاظ کے پورا ہونے کی ایک صورت یہ بھی قرار دی جاسکتی ہے کہ حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ کو پاکستان سے ہجرت کر کے دیار مغرب میں آنا پڑا جس کے بعد خلیفہ وقت کے لئے سیٹلائیٹ کے ذریعہ عربوں میں جانے کی صورت پیدا ہوئی۔اور پروگرام لقاء مع العرب شروع ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مذکورہ بالا رؤیا کے پورے ہونے کا بھی ایک جلوہ نظر آیا کہ یہ پروگرام جو مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کی تبلیغ پر مشتمل تھا اور آپ کا نام عربوں میں پہنچانے کے لئے شروع ہوا تھا اس کا کی