مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 331
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 311 فارمیٹ یہ بنا کہ حضرت خلیفتہ اسیح الرابع انگریزی میں بات کرتے تھے جبکہ علمی شافعی صاحب عربی میں اس کا ترجمہ کرتے تھے۔یوں آپ کا آدھا نام عربی میں اور آدھا انگریزی میں لکھنے کی ایک جھلک اس پروگرام میں بھی نظر آتی ہے۔واللہ اعلم بالصواب۔اس پروگرام میں حضور انور نے تفصیل کے ساتھ تمام اختلافی مسائل پر مدلل گفتگو فرمائی۔نیز تفسیر آیات قرآنیہ، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دلکش پہلو، سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایمان افروز واقعات، حضور کے مختلف دورہ جات کے بارہ میں رپورٹس، عربوں کے بعض خطوط اور تبصرے اور عرب حکومتوں اور عرب قوم کو نصائح جیسے موضوعات اور حضور انور کے سحر بیان اور اسی طرز پر علمی الشافعی صاحب کے ترجمہ کی مٹھاس نے اس پروگرام کو ہر دلعزیز بنا دیا اور آج تک عرب و عجم اس روحانی مائدہ سے مستفیض ہوتے چلے آرہے ہیں۔یہ پروگرام مؤرخہ 17 جولائی 1994ء کو شروع ہوا اور 2 دسمبر 1999ء تک اس کے تقریباً 473 پروگرام ریکارڈ ہوئے۔شروع سے لے کر 7 دسمبر 1995ء تک علمی صاحب نے ترجمہ کرنے کی سعادت پائی۔جبکہ 12 دسمبر 1995ء تا 4 جنوری 1996ء منیر ادلبی صاحب نے اور 8 جنوری تا 15 راگست 1996 ء منیر عودہ صاحب نے اور 5 ستمبر 1996ء تا آخری پروگرام بتاریخ 2 دسمبر 1999ء مکرم عبادہ بر بوش صاحب نے عربی ترجمہ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ہم ذیل میں ان پروگراموں میں مذکور عربوں سے متعلق بعض امور کا مختصر تذکرہ کریں گے۔چونکہ حضور انور اس پروگرام میں انگریزی میں گفتگو فرماتے تھے۔اس لئے یہ امور جن کا ہم تذکرہ کریں گے نہ تو حضور انور کا کلام ہے نہ ہی اس کا لفظی ترجمہ۔بلکہ یہ حضور انور کے کلمات کے قریب رہتے ہوئے آپ کی گفتگو کا خلاصہ ہے جو خاکسار کے اپنے الفاظ میں پیش ہے۔يدعُونَ لَكَ أَبْدَال الشَّام اور يُصَلُّونَ عَلَيْكَ صُلَحَاءِ الْعَرَبِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس الہام کے بارہ میں سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ یہاں پر اہل حجاز وغیرہ کا ذکر نہیں بلکہ ابدال شام کا ذکر آیا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نعوذ باللہ یہ پیشگوئی اپنی طرف سے بنائی ، ہے کہ سبہ ہوتی تو سب سے پہلے مکہ ومدینہ کا نام ذہن میں آنا چاہئے تھا، اور حقیقت بھی یہی