مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 319
۔299 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم سرایت کرتے ہوئے تم اس عظیم الشان تعمیر کے کام کو جاری رکھو گے۔ایک صدی بھی جاری رکھو گے، اگلی صدی بھی جاری رکھو گے یہاں تک کہ یہ عمارت پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔اس عمارت کی تکمیل کا سہرا جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے ڈالی تھی جن کے ساتھ ان کے بیٹے اسماعیل نے مزدوری کی تھی خدا کی تقدیر میں ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر باندھا جا چکا ہے۔کوئی نہیں جو اس تقدیر کو بدل سکے۔ہم تو مزدور ہیں، محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے غلام، آپ کی خاک پا کے غلام ہیں۔پس آپ وفا کے ساتھ کام لیں اور نسلا بعد نسل اپنی اولاد کو یہ نصیحت کرتے چلے جائیں کہ تم خدا اور رسول کے مزدوروں کی طرح کام کرتے رہو گے، کرتے رہو گے، کرتے رہوگے، اپنے خون بھی بہاؤ گے اور پسینے بھی بہاؤ گے، اور کبھی نہیں تھکو گے نہ ماندہ ہو گے، یہاں تک کہ خدا کی تقدیر اپنے اس وعدہ کو پورا کر دے کہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِه (الصف:10 ) که محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اس لئے دنیا میں بھیجا گیا تھا کہ تمام ادیان پر غالب آجائے۔اور ایک ہی جھنڈا ہو جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہو، اور ایک ہی دین ہو جو خدا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہو، اور ایک ہی خدا کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو۔خدا کرے کہ ہم اس کی بادشاہت کو اپنی آنکھوں۔دیکھیں۔“ میری روح کی آنکھ دیکھ رہی ہے ނ خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1991ء) ئیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ان دنیا کی آنکھوں سے آپ دیکھ سکیں یا نہ دیکھ سکیں، میری روح کی آنکھیں آج ان واقعات کو دیکھ رہی ہیں۔ان عظیم الشان تغییرات کو اس طرح دیکھ رہی ہیں جیسے میرے سامنے واقعہ ہور ہے ہیں۔اور ہمارے مرنے کے بعد ہماری روحوں کو آشنا کیا جائے گا اور خبریں دی جائیں گی کہ اے خدا کے غلام بندو! خدا سے عشق اور محبت کرنے والے بندو! تمہاری روحیں ابدی سرور پائیں اور ابدی سکینت حاصل کریں کہ جن را ہوں میں تم نے قربانیاں دی تھیں وہ راہیں شاہراہیں بن چکی ہیں۔اور جن تعمیرات میں تم نے اینٹ اور روڑے اور پتھر رکھے تھے وہ خدا کی توحید کی ایک عظیم الشان عمارت بن کر پایہ تکمیل کو پہنچ چکی ہے۔ہوگا اور ایسا ہی ہو گا۔اللہ کرے کہ ہمیں زیادہ سے زیادہ اس رنگ