مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 318
298 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم خدا کی تقدیر کیا فیصلہ کرے گی، مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ خدا کی تقدیر جو بھی فیصلہ کرے گی وہ بالآخر متکبروں کو ہلاک کرنے کا موجب بنے گا۔آج نہیں تو کل یہ تکبر ملیا میٹ کئے جائیں کی گے۔کیونکہ وہ خدا جس کی بادشاہت آسمان پر ہے اسی خدا کی بادشاہت زمین پر بھی ضرور قائم ہو کر رہے گی۔پس آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں آپ دیکھیں گے کہ یہ تکبر دنیا سے ہلاک کیا جائے گا اور طوفان ان پر الٹائے جائیں گے۔اور ایسے ایسے خوفناک Storms خدا کی تقدیر ان پر چلائے گی کہ جن کے مقابل پر ان کی تمام اجتماعی طاقتیں بھی ناکام اور پارہ پارہ ہو جائیں گی۔یہ اقوام قدیم جن کو آج اقوام متحدہ کہا جاتا ہے ان کے اطوار زندہ رہنے کے نہیں ہیں۔یہ قومیں یادگار بن جائیں گی اور عبرت ناک یادگار بن جائیں گی اور انکے کھنڈرات سے اے توحید کے پرستارو! وہ آپ ہیں جو نئی عمارتیں تعمیر کریں گے۔نئی اقوام متحدہ کی عظیم الشان فلک بوس عمارتیں تعمیر کرنے والے تم ہو، اے مسیح محمدی کے غلامو! جن کے سپرد یہ کام کیا گیا ہے۔تم دیکھو گے، آج نہیں تو کل دیکھو گے۔اگر تم نہیں دیکھو گے تو تمہاری نسلیں دیکھیں گی۔اگر کل تمہاری نسلیں نہیں دیکھیں گی تو ان کی نسلیں دیکھیں گی۔مگر یہ خدا کے منہ کی باتیں ہیں اور اس کی تقدیر کی تحریریں ہیں جنہیں دنیا میں کوئی مٹا نہیں سکتا۔(خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جنوری 1991ء) خدا کی راہ کے مزدور حضور انور نے مغربی ممالک اور اقوام متحدہ کے بعض ظالمانہ مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ اقوام متحدہ دراصل اقوام متحدہ نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی عمارت انصاف پر قائم ہونی چاہئے اور خدا کے صالح عباد ہی اس کی یہ عمارت اس کی بنیادوں سے اٹھائیں گے۔اس ضمن میں آپ نے افراد جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: آپ وہ مزدور ہیں جنہوں نے وہ نئی عمارتیں تعمیر کرنی ہیں۔نئی اقوام متحدہ کی بنیادیں تو ڈالی جاچکی ہیں، آسمان پر پڑ چکی ہیں۔ان کی عمارتوں کو آپ نے بلند کرنا ہے۔پس ان دو مقدس مزدوروں کو کبھی دل سے محو نہ کرنا جن کا نام ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام تھا۔اور ہمیشہ یادرکھنا اور اپنی نسلوں کو نصیحتیں کرتے چلے جانا کہ اے خدا کی راہ کے مزدورو! اسی تقویٰ اور سچائی اور خلوص کے ساتھ ، اسی توحید کے ساتھ وابستہ ہو کر اسے اپنے رگ وپے میں