مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 320
مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم میں خدمت کی توفیق عطا ہو۔“ اسلام کا نظام عدل رائج کریں 300 خطبه جمعه فرموده 25 جنوری 1991ء) اسلام کو دنیا کے سامنے ایک ایسے مذہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا عدل کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔اس میں سب سے بڑا قصور ملاں اور سیاستدان کا ہے۔ان دونوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجہ میں اسلام کے نظام عدل کو تباہ کیا جارہا ہے۔پہلا نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تلوار کا استعمال نظریات کی تشہیر میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔اور تلوار کے زور سے نظریات کو تبدیل کر دینے کا نام اسلامی جہاد ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ حق صرف مسلمانوں کو ہے، عیسائیوں یا یہود یا ہندؤوں یا بدھوں کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی مسلمان کے نظریئے کو بزور تبدیل کریں۔دوسرا جزو اس کا یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم مسلمان ہو جائے تو کسی کا حق نہیں کہ اسے موت کی سزا دے۔۔۔۔لیکن اگر کوئی مسلمان دوسرا مذہب اختیار کرلے تو دنیا کے ہر مسلمان کا حق ہے کہ اس کی گردن اڑا دے۔۔۔۔۔تیسرا اصول یہ ہے کہ مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ شریعت اسلامیہ کو زبر دستی ان شہریوں پر بھی نافذ کریں جو اسلام پر ایمان نہیں لاتے۔لیکن دوسرے مذاہب کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی اپنی شریعت مسلمانوں پر نافذ کریں۔آج دنیا میں اسلام کے خلاف سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ہتھیار یہی وہ تین اصول ہیں جن کی فیکٹریاں مسلمان ملکوں میں لگائی گئی ہیں۔مسلمانوں کے لئے اور حقوق، غیروں کے لئے اور حقوق ، سارے حقوق دنیا میں راج کرنے کے مسلمانوں کو اور سب غیر ہر دوسرے حق سے محروم۔اگر ، نعوذ باللہ من ذلک، یہ قرآنی اصول ہے تو لازما ساری دنیا اس اصول سے متنفر ہوگی اور مسلمانوں کو امن عالم کے لئے شدید خطرہ محسوس کرے گی۔پس امر واقعہ یہی ہے کہ اسلامی ممالک میں اسلام کی طرف منسوب کئے جانے والے نہایت مہلک ہتھیاروں کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں۔اور مُلاں ان کارخانوں کو چلا رہے ہیں۔اور بھاری تعداد می