مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 302 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 302

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 282 شکل میں مرتب کر کے عربک ڈیسک کو ارسال کر دی۔”مصالح العرب“ کے گزشتہ صفحات میں وفات مسیح کے بارہ میں عصر حاضر کے عرب علماء کی آراء کے عنوان سے یہ تمام جمع شده اقوال معہ ترجمہ و تشریح پیش کر دیئے گئے ہیں۔بعض مخلصین کا ذکر خیر گو که دمشق میں تمام احمدی احباب خدا کے فضل سے مخلص تھے ان میں سے کئی احباب کا ذکر ہم 80 کی دہائی میں بیعت کرنے والے بعض مخلصین“ کے عنوان کے تحت کر آئے ہیں۔کئی بزرگ بعض اوقات کافی فاصلہ طے کر کے صرف ہم سے ملنے اور جماعت کی خبریں سننے آتے تھے۔ان میں سے سرفہرست مکرم ابونعیم صاحب تھے۔ان کا گھر پہاڑ کے اوپر تھا اور وہ بڑھاپے کے باوجود ہفتہ عشرہ میں ایک بار ضرور ہم سے ملنے آجاتے تھے۔خلافت سے انکی محبت کا عجیب رنگ تھا، کئی دفعہ لفظ ساتھ نہ دیتے تھے اور آنکھیں اور ان سے ٹپکنے والے آنسو دل کی بات کہہ جاتے تھے۔شاید انکی یہ سچی محبت اور اخلاص ہی تھا کہ باوجود نامساعد حالات کے اللہ تعالیٰ نے انکی وفات سے قبل انہیں 2005ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت اور خلیفہ وقت سے ملاقات کا شرف عطا فر ما دیا۔اسی طرح ایک پرانے مخلص دوست ابوسلیم صاحب تھے جن کی ہمارے شام کے قیام کے دوران ہی وفات ہوگئی تھی۔یہ دوست ایک دفعہ ہم سے ملنے کے بعد دوبارہ باوجود ضعیف العمری کے سخت سردی میں نجانے کتنی دور سے ہمیں شرح ابن عقیل کی دو جلدیں دینے کے لئے تشریف لائے کہ شاید یہ ہماری پڑھائی میں مفید ثابت ہوں۔مکرم سامی قزق صاحب مکرم سامی قزق صاحب فلسطین کے ایک مخلص احمدی مکرم خضر قزق صاحب کے بیٹے تھے۔مالی کشائش کے ساتھ ساتھ گوانکی اہلیہ بھی دمشق کے پرانے مخلص احمدی کی بیٹی تھیں لیکن وہ احمدیت سے برگشتہ ہو چکی تھیں اور انکے ساتھ ساری اولاد بھی احمدیت سے بہت دور تھی۔کئی دفعہ یہ ذکر کر کے بہت غمگین ہو جایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ افسوس، میں اپنے گھر میں اکیلا احمدی ہوں۔۔