مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 303
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 283 دمشق میں ہم ان کے گھر واقع محلہ رکن الدین ہی آکر ٹھہرے تھے جس کا یہ معمولی کرایہ لیتے تھے۔ہمارے توجہ دلانے پر 1996ء کے جلسہ برطانیہ میں شمولیت کے لئے تین افراد پر مشتمل ایک وفد شام سے بھی روانہ ہوا جس میں مکرم نذیر المرادنی صاحب سابق امیر جماعت شام، مکرم عمار المسکی صاحب اور مکرم سامی قزق صاحب شامل تھے۔مکرم سامی قزق صاحب احمدی تو تھے لیکن زندگی کا بیشتر حصہ جماعت اور نظام جماعت سے دوری میں ہی گزار دیا تھا اس لئے جلسہ کے بارہ میں ان کے ذہن میں کوئی تصور نہیں تھا۔جلسہ پر روانگی سے قبل ایک دن کچھ دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مکرم مسلم الدروبی صاحب نے انہیں کہا کہ آپ کو وہاں جا کر ایک عجیب خوشی اور انبساط کا احساس ہوگا۔ادھر ہم نے بھی عربک ڈیسک کو ان کے آنے کی اطلاع دے دی تھی۔لیکن ہوا یوں کہ انکے اسلام آباد پہنچنے کی خبر عربک ڈیسک کے ممبران کو نہ ہوئی اور جلسہ کی انتظامیہ نے انہیں عام انتظام کے تحت ایک خیمہ میں جگہ دی۔ایک تو انہیں خیمہ میں سونے کی عادت نہیں تھی اس پر مستزاد یہ کہ نماز کے بعد انکے جوتے کا ایک پاؤں تبدیل ہو گیا۔اور بظاہر ان کے پاس بازار جانے اور نیا جوتا خریدنے کا بھی کوئی امکان نہیں تھا کیونکہ ابھی تک ان کا رابطہ عربک ڈیسک سے بھی نہیں ہوا تھا۔گو انہیں کچھ دیر تک سوٹ کے ساتھ وہی عجیب و غریب جوتا پہننا پڑا لیکن اسکے بعد کے حالات نے ان کی کایا پلٹ دی۔ہوا یوں کہ عربک ڈیسک کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے فورا انکو دیگر عرب برادران کے ساتھ انکی مخصوص رہائش گاہ پر منتقل کر دیا جہاں اپنے فلسطینی بھائیوں سے مل کر ان کو سب کچھ بھول گیا۔اگلے دن جلسہ کی انتظامیہ کا ایک کارکن ایک ڈبے میں کچھ جوتے لئے انکے کمرے میں بھی آیا اور پوچھا کہ کسی کا جو تا وغیرہ اگر گم ہوا ہو تو بتا ئیں۔محترم سامی قزق صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ انکا تبدیل ہونے والا جوتا اس میں موجود تھا۔وہ کہتے تھے کہ میں سوچ نہیں سکتا کہ اتنے بڑے مجمع میں تبدیل ہونے والا جوتا اتنی آسانی سے مل سکتا ہے۔یہ بظاہر بہت معمولی سا واقعہ ہے لیکن ان کے ایمان میں غیر معمولی اضافہ کا سبب بنا۔اس واقعہ سے نظام جماعت کی عظمت وافادیت بھی کھل کے سامنے آجاتی ہے اور جلسہ کے ہر شعبہ کی ظاہری اغراض و مقاصد کے علاوہ اس کی بعض پوشیدہ حکمتوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔