مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 301
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 281 انہوں نے حضور کا نام ہی پڑھا تھا کہ استاد عرفان نے بے ساختہ کہہ دیا حضرۃ مرزا طاہر احمد الخليفة الرابع مکرم نعیم صاحب نے بہت حیرانی کے عالم میں ان سے پوچھا کہ آپ ان کو کیسے جانتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ لقاء مع العرب بڑی باقاعدگی سے دیکھتے تھے لیکن اب نہ جانے یہ چینل کہاں چلا گیا ہے۔دراصل کچھ عرصہ کے بعد MTA کسی اور سیٹلائیٹ پر شفٹ ہو گیا تھا اور شام میں بڑی ڈش کے بغیر اس کو دیکھنا ممکن نہ رہا تھا۔عربوں کا حافظہ عربوں کی کئی خصوصیات ایسی ہیں جن میں انکا ثانی کوئی نہیں۔ان میں سے ایک انکی قوت حافظہ ہے۔اس کی دو مثالیں جو ہمارے کلاس فیلوز میں ہمیں نظر آئیں پیش خدمت ہیں۔ہمارے ایک عرب کلاس فیلو کا امتحان کے لئے تیاری کا یہ طریق تھا کہ کتاب کے ہر باب کے اہم نکات کو شعر میں ڈھال کر لکھ لیتا تھا اور پھر امتحان میں ان شعروں کی بناء پر تمام مضمون بیان کر دیتا تھا۔اسی طرح ایک اور دوست کا بلا کا حافظہ تھا۔ایک دن جبکہ ایک بہت ہی مشکل مضمون کا پیپر تھا ہم نے اس سے کسی نقطہ کی وضاحت چاہی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اسکی کیا تفصیل وشرح ہے ہاں اگر آپکو کتاب کی نص مطلوب ہے تو میں سنائے دیتا ہوں کیونکہ میں نے شروع سے لے کر تقریباً صفحہ نمبر 200 تک کتاب حفظ کی ہوئی ہے۔وفات مسیح علیہ السلام شریعت کالج میں پڑھائی کے دوران عقیدہ اسلامیہ کے مضمون میں جماعت احمدیہ کے بارہ میں غلط سلط معلومات بھی درج تھیں جن میں ایک یہ الزام بھی تھا کہ جماعت احمد یہ عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کی قائل ہے جبکہ قرآن صراحتا ان کے زندہ آسمان پر جانے کا ذکر کرتا ہے۔وغیرہ وغیرہ۔چونکہ وہاں پر تحقیق کے لئے ہر قسم کی کتب میسر تھیں اس لئے خاکسار نے اس وقت عصر حاضر کے ان عرب علماء کے اقوال اور بیانات ان کی اصل کتب سے اکٹھے کئے پھر ان پر تبصرہ اور اس مضمون سے متعلقہ بعض امور کی وضاحت کے ساتھ ساری تحقیق ایک چھوٹی سی کتاب کی