مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 299
279 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم فقرات لکھ کر لانے کے لئے کہتی تھی۔ایک دن کسی موضوع پر خاکسار نے ایک صفحہ لکھا جس کو نہ پڑھنے کے بعد ٹیچر نے بڑا دلچسپ تبصرہ کیا ، کہنے لگی کہ یہاں تو یو نیورسٹی کے طالبعلم ایسا نہیں لکھ سکتے ، میں تمہیں یہاں استاد لگوا دوں گی۔گو کہ اس انسٹیٹیوٹ کا تو کوئی خاص معیار نہیں تھا اور شاید ٹیچر کی اس بات میں مبالغہ بھی تھا پھر بھی اس کے یہ الفاظ میرے لئے بہت حوصلہ افزا ثابت ہوئے۔”کاش آپ لوگ احمدی نہ ہوتے !!! حکومتی انسٹیٹیوٹ میں چونکہ طالبعلموں کی اکثریت یورپ اور امریکا سے تھی ، اور ان دنوں چیچنیا کے مسلمان لیڈر دودا بیف کی رشیا کے ساتھ ٹکر کا ذکر زبان زد عام تھا جس کی بناء پر ان غیر ملکی طالبعلموں کی طرف سے اسلام پر اکثر اعتراضات ہوتے رہتے تھے جن کا جواب کبھی کبھی استاد صاحب بھی دے دیتے تھے تاہم اکثر اوقات ہم مربیان میں سے کوئی نہ کوئی صحیح اسلامی نقطہ نظر پیش کر کے اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا۔ہماری کلاس میں ادھیڑ عمر کی ایک ترک مسلمان خاتون بھی تھیں جن کا خاوند ایک مصری بزنس مین تھا اس لئے ان کو عامیہ زبان تو آتی تھی لیکن فصحی سیکھنے کے لئے انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لیا تھا۔یہ خاتون ایک شدت پسند مسلمان تھی جس کا پتہ اس بات سے بھی چلتا ہے کہ جس دن دو دا ییف مارا گیا اس نے روتے ہوئے ٹیچر سے کہا کہ آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے اور دو دا بیف کے بارہ میں آپ کو کچھ کہنا چاہئے۔ٹیچر نے خود تو کچھ نہ کہا تاہم انہیں اجازت دے دی کہ آپ جو کہنا چاہتی ہیں سب کے سامنے آکر کہہ لیں۔بہر حال انہوں نے جو کہنا تھا کہا اس کا غیر ملکی طلباء پر یہ اثر ہوا کہ ان میں سے کئی ان کی تقریر کے دوران ہی واک آؤٹ کر گئے۔بہر حال اسلام پر مغربی طلباء کے اعتراضات کے جوابات اور صحیح اسلامی تعلیم پیش کرنے کی وجہ سے یہ خاتون ہمارا بہت احترام کرتی تھی اور اس نے کئی دفعہ کہا کہ آپ میرے بیٹوں کی طرح ہیں۔جب ہم اس انسٹیٹیوٹ سے فارغ ہوئے تو آخری دن مکرم داؤد احمد عابد صاحب نے انہیں بتادیا کہ ہمارا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔یہ بتانا تھا کہ وہ ایک لمحہ کے لئے بالکل سکتہ میں آگئیں، پھر اس طرح رونے لگیں جیسے ان کے کسی قریبی رشتہ دار کی وفات ہو گئی ہو۔پھر