مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 300 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 300

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 280 یوں گویا ہوئیں: مجھے آج شدید دھچکا لگا ہے، آپ سب اتنے اچھے مسلمان ہیں ، اسلام کا دفاع کرتے ہیں،اس لئے میرے دل میں آپ کا بہت زیادہ احترام ہے۔کاش کہ آپ لوگ احمدی نہ ہوتے۔کاش آپ مجھے یہ نہ ہی بتاتے۔میں مرزا غلام احمد صاحب کو ایک بڑا عالم مان سکتی ہ ہوں، ایک ولی اللہ بھی مان سکتی ہوں، لیکن ان کو ایک نبی نہیں مان سکتی۔ہم نے ان کے جذبات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کو یہی جواب دیا کہ ہم میں اگر کوئی اچھائی آپ کو نظر آتی ہے تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی ہے۔لقاء مع العرب لقاء مع العرب کی ابتداء ہوئی تو اس وقت MTA کی نشریات عرب دنیا میں ” یوٹیل ساٹ‘( Eutelsat) کے ذریعہ دیگر عربی چینلز کے ساتھ ہی دیکھی جا سکتی تھیں۔اس لئے احمدیوں کے ساتھ ساتھ غیر احمدی شامی عربوں میں بھی لقاء مع العرب ایک مقبول پروگرام بن گیا تھا۔اس وقت وہاں ڈش لگانے والے حضرات ڈش سیٹ کر کے اس پر آنے والے چینلز کی فریکوینسی اور ان کے نام پر مشتمل ایک لسٹ بھی دیتے تھے تا کہ لوگ اپنی پسند کا چینل سہولت سے لگا سکیں۔ہمارے ایک احمدی بھائی نے بتایا کہ جب انہوں نے ڈش لگانے والے سے یہ کہا کہ انہیں عربی چینلز کے علاوہ MTA کی فریکوینسی بھی سیٹ کر کے دیں تو ڈش لگانے والے نے تھوڑی تفصیل پوچھنے کے بعد کہا کہ مجھے سمجھ آگئی ہے یہ وہی چینل ہے جس پر اکثر سفید پگڑی اور نورانی چہرے والے ایک بزرگ نظر آتے ہیں۔ہم ڈش لگانے والوں کے درمیان یہ چینل ”امیر المؤمنین چینل کے نام سے مشہور ہے۔حضرت مرزا طاہر احمد الخلیفۃ الرابع ان دنوں میں جبکہ ہم حکومتی انسٹیٹیوٹ میں پڑھ رہے تھے ایک دن مکرم محمد احمد نعیم صاحب نے حضرت خلیفتہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے کسی خطبہ سے ایک اقتباس کا ترجمہ کیا اور اپنے استاد مکرم عرفان المصری صاحب کو زبان کی اصلاح وتحسین کے لئے دکھایا۔مکرم نعیم صاحب نے پہلی لائن میں لکھا تھا کہ قال حضرة مرزا طاهر احمد اور آگے اقتباس کا ترجمہ تھا۔ابھی