مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 298 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 298

278 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم ادیب کے افسانہ پر رائے دینے لگا ہے میری حاضرین کے سامنے کچھ تعریف بھی کر دی کہ ان کی عربی کافی اچھی ہے اور ان کے مضامین اخبارات میں چھپتے رہتے ہیں وغیرہ (ان دنوں خاکسار کے چند مضامین سیرین اخبار الاعتدال میں شائع ہوئے تھے ) پھر مجھے مائیک پر بلایا۔میں نے عرض کیا کہ مجھے ان افسانوں کے ادبی پہلؤوں کے بارہ میں تو زیادہ معلومات نہیں ہیں بلکہ ہم تو اس نظر سے ہی ان کا مطالعہ کرتے ہیں کہ ان میں استعمال شدہ الفاظ اور ان کے نئے استعمال اور نئی تراکیب کو یاد کر لیں اور اس طرح ہماری زبان زیادہ اچھی ہو جائے۔لیکن مجھے بڑی حیرت ہوئی ہے کہ اس افسانہ نگار کے افسانہ کا ایک حصہ لوکل زبان پر مشتمل تھا۔میرا ان سے سوال ہے کیا فصیح عربی زبان اب اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ بعض مفاہیم کو ادا کرنے کے لئے آپ کو لوکل زبان کی ضرورت پڑی ہے۔اس پر اس افسانہ نگار نے میری بات ٹوک کر جواب دیا کہ یہ مفاہیم ہمارے کلچر کا حصہ ہیں اور میں نے لوکل زبان میں ان مفاہیم کو زیادہ واضح شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔میں نے کہا کہ قارئین کرام کے ساتھ زیادتی ہوگی اگر یہ تصور کر لیا جائے کہ آپ فصیح عربی میں لکھیں گے تو شاید وہ نہ مجھ سکیں۔اس کے بعد میں نے عرض کیا کہ آج عرب دنیا میں ہر عربی ملک کی علیحدہ زبان اور لہجہ ہے ہر قسم کے باہمی اتحاد کے دھاگے ٹوٹتے جارہے ہیں۔ایک فصیح عربی زبان کا واحد دھاگہ ایسا ہے جو تمام عرب ملکوں میں اتحاد کی ایک صورت پیش کر رہا ہے اگر اس کو بھی توڑتے ہوئے ہر ملک والے اپنی اپنی لوکل زبان کو فصیح زبان پر فوقیت دینے لگ گئے تو پھر یہ آخری امید بھی جاتی رہے گی۔میرا اتنا کہنا تھا کہ سارا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔سیمینار ختم ہونے کے بعد کلچرل سینٹر کی انچارج خود میرے پاس آئی اور کہا کہ عربی زبان کے بارہ میں جس غیرت کا اظہار آپ نے کیا ہے اس پر میں سینٹر کی طرف سے آپ کا شکر یہ ادا کرتی ہوں۔ایک کلاس ٹیچر کا تبصرہ غیر ملکیوں کو عربی زبان سکھانے کے لئے دمشق یونیورسٹی کے تحت ایک انسٹیٹیوٹ کھولا گیا ہے۔یو نیورسٹی میں داخلہ سے قبل ہم نے اس انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لینے کی کوشش کی تو ہمیں اس کی آخری کلاس میں داخلہ ملا۔اس کلاس میں بعض اوقات ہماری ٹیچر گھر سے کسی موضوع پر چند