مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 271
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم 253 مطابق اسلامی تعلیمات کو پھیلایا۔اس لئے اے میرے پیارے تو شکریہ اور تعریف کا مستحق ہے۔اے پیارے ”التقوی “ تو اب ہم سے جدا نہ ہونا۔اللَّهُ أَكْبَر خَرِبَتْ خَيْبَر انڈونیشیا ان ممالک میں سے ہے جہاں پر اسلام شروع زمانہ کے نیک دل اور پاک سیرت عرب مسلمان تاجروں کے ذریعہ پہنچا اور پھیلا۔یہ عرب وہاں پر بکثرت آباد ہو گئے۔اس وجہ سے شروع سے ہی عربی زبان کا وہاں پر بڑا وسیع اور گہرا اثر ہے۔ہزار ہا دینی مدارس ہیں۔کئی عربی یونیورسٹیاں ہیں۔ہزارہا طلباء عرب ممالک میں جا کر اعلیٰ عربی اور دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔عربی دان علماء کی یہ کثرت وہاں پر التقوی کے لئے ایک زرخیز زمین مہیا کرتی ہے۔چنانچہ انڈونیشیا سے ہمارے نہایت مخلص دوست پروفیسر ابو بکر با سلامہ صاحب (جواب اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو چکے ہیں ) نے لکھا: اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ رسالہ عربی دان احمدی مسلمانوں کے لئے انسائیکلو پیڈیا سے کم نہیں۔اس سے صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ثابت کرنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔میں آپ کا دوبارہ شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے یہ رسالہ ارسال فرمایا جس میں حضور انور کی نصائح، جماعتی خبریں اور دیگر دلچسپ مضامین ہیں۔اگر کبھی مجھے ”التقوی“ نہ ملے یا اس کے ملنے میں تاخیر ہو جائے تو میں پریشان ہو جاتا ہوں۔یو نیورسٹی میں اپنے ساتھی پروفیسر حضرات کو بھی خاکسار یہ رسالہ دیتا ہے۔اسے پڑھنے کے بعد وہ مجھ سے جماعت احمدیہ کے عقائد اور دیگر موضوعات کے بارہ میں گفتگو کرتے ہیں۔اب ان کے ذہنوں سے احمدیت کی منفی تصویر زائل ہو چکی ہے۔ان میں سے بعض کے اسماء ارسال ہیں تا ان کو آپ براہ راست رسالہ بھجوایا کریں۔ان میں سے بعض از ہر یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں اور بعض یہاں مرکزی وزیر بھی رہ چکے ہیں“۔ایک اور خط میں تحریر فرمایا: الحمد للہ” التقوی کے جون اور جولائی 89ء کے دو نسخے مل گئے ہیں۔ان میں شائع شدہ مضامین بہت عمدہ اور بڑے معیاری ہیں۔ایسے ہی مضامین کی تبلیغ و تربیت کے لئے ضرورت ہے۔