مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 272 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 272

- 254 مصالح العرب۔جلد دوم یہاں لاہوریوں (غیر مبایعین ) نے 24 اور 25 دسمبر 89ء کو جوبلی منائی۔اس موقعہ پر انہوں نے مختلف اسلامی جماعتوں کو دعوت دی۔ہم بھی مدعو تھے۔انہوں نے بہت لٹریچر بھی شائع کیا جس میں جماعت کو ضال اور خارج از اسلام قرار دیا اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نبوت کا قطعاً کوئی دعوی کہیں نہیں کیا بلکہ یہ (نعوذ باللہ ) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی اختراع ہے۔وغیرہ وغیرہ۔ان کا خیال تھا کہ اس طرح کی باتوں سے لوگ ان کی طرف مائل ہوں گے۔مگر ان کے جلسوں میں خدا کی تقدیر ظاہر ہوئی اور جماعت احمد یہ اور دیگر لوگوں کی طرف سے سوالوں کے دوران انہیں بری طرح زک اٹھانا پڑی۔حاضرین میں بڑے بڑے علماء تھے جنہوں نے ان سے کہا کہ اگر بالفرض مرزا صاحب ہی حقیقی مسیح موعود ہیں تو لازماً وہ غیر تشریعی نبی ہوں گے۔یہ ختم نبوت کے خلاف نہیں۔یہی یہاں کے مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔اس دوران ایک مسلمان عالم دین کھڑے ہوئے اور ثابت کیا کہ حضور علیہ السلام نے بغیر شریعت والی نبوت کا دعوی کیا ہے۔پھر انہوں نے ” التقوی رسالہ کا ایک شمارہ نکال کر کہا کہ یہی جماعت حقیقی جماعت ہے اور یہی اسلامی تعلیم پھیلا رہی ہے اور قرآن کی زبان کو زندہ کر رہی ہے۔قرآنی تعلیم کو پھیلانا اسی کی خصوصیت ہے۔یہ واقعات اللہ تعالیٰ کی تائید کا نشان ہیں اور اِنِّی مُعين مَن اَرَادَ إِعَاتَنگ کی بشارت کو پورا 66910 کرنے والے ثبوت - اللهُ أَكْبَر خَرِبَتْ خَيْبَرُ دعوت مقابلہ دینے والے بزرگ کی بیعت یمن کے ایک بزرگ، جن کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں ، احمدیت سے اپنے ابتدائی تعارف کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اتفاقاً آپ کے رسالہ ” التقوی“ کا چوتھا اور پانچواں شمارہ میری نظر سے گزرا۔میں آپ سے یہ بات چھپا نہیں سکتا کہ نہ جانے کیوں مجھے آپ کی دعوت کے بارہ میں انشراح صدر محسوس ہو رہا ہے۔براہ کرم مجھے اپنے عقائد و تعلیم کے بارہ میں مزید معلومات بہم پہنچا ویں خواہ کتب ہوں یا کچھ اور۔آپ کے اصولوں کو دیکھ کر یا تو میں آپ کی جماعت میں شامل ہو کر اہل یمن کو کی