مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 270
252 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم میں نے اپنے گاؤں میں جو یہاں سے دس میل دور ہے پہلے ہی جماعت کا تعارف کروا دیا ہے۔کی ہماری خواہش ہے کہ آپ ہمارے گاؤں چلیں اور احمدیت کا پیغام دیں۔چنانچہ ہم لوگ وہاں گئے اور سارا گاؤں احمدی ہو گیا۔اس استاد کے بعض دیگر عربی دان دوست اسا تذہ نے بھی اس رسالہ کے ذریعہ اس دورہ میں احمدیت قبول کی اور وہ بھی اپنے مدرسوں سمیت احمدی ہوئے۔یوں کل 832 بیعتیں ہوئیں۔الحمد للہ۔پیار بھرے شکوے کسی وجہ سے رسالہ کے دیر سے پہنچنے یا منقطع ہو جانے پر عجیب پیارے پیارے شکوے موصول ہوتے ہیں۔نمونہ کے طور پر دوشکوے ہدیہ قارئین ہیں۔اردن کے ایک احمدی دوست مکرم غانم صاحب لکھتے ہیں۔التقوی کی تیاری اور اسلام کا پرچم بلند رکھنے کے لئے آپ جو سعی فرماتے ہیں اس پر آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔یہ رسالہ ہمارے لئے تو پھیپھڑوں کی طرح ہے جن کے ذریعہ ہمیں پاک صاف روحانی ہوا میسر آتی ہے جو ہماری روحوں کو زندہ رکھتی ہے۔براہ کرم رسالہ بھیجتے رہا کریں کہ ان حالات میں مرکز سے دور بیٹھے ہم لوگوں کے لئے تو صرف یہ رسالہ ہی تسلی کی سبیل ہے۔ان ایام میں فتنے بڑھ گئے ہیں۔شر اور ظلم کی طاقتیں اسلام کے نام کا سہارا لے کر ظلم پر تلی ہوئی ہیں۔احمدیت کی حقیقت سے بے خبر لوگ ہمیں مرتد قرار دینے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین سے کاٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔گیمبیا میں ہمارے مقامی مبلغ یولی باہ صاحب کیا ہی پیارے انداز میں لکھتے ہیں: میں عرصہ سے بہت دلگیر ہوں کیونکہ ”میرے استاد سے میرا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔یہ رسالہ تو میرے لئے ایسی لائبریری کی طرح ہے جس میں نادر و نایاب کتب ہوں اور جو ہر ماہ مجھے مل رہی ہوں۔ائے التقوی“ تو کب دوبارہ آئے گا۔میری نظریں ہرلمحہ تیرے انتظار میں فرش راہ ہیں۔اے میرے پیارے التقوی“ تو نے عالم اسلام کو دوبارہ زندگی بخشی ہے۔تو نے خواب غفلت میں سوئی پڑی امت اسلامیہ کو اپنا پیغام پہنچایا۔تو نے ملت اسلامیہ میں محبت واخوت کے رشتے تقویٰ کی بنیاد پر دوبارہ قائم کر دیئے ہیں۔تو نے رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے