مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 269 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 269

مصالح العرب۔۔۔۔۔۔جلد دوم ہے۔انسان کو چاہیے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے وہ دونوں اطراف کی سنے ورنہ وہ ظلم کر بیٹھے گا۔مدینہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل عالم کا اقرار : 251 رابطہ عالم اسلامی والے سعودی عرب، کویت اور مصر کی بعض یونیورسٹیوں میں طلباء کو خاص طور پر احمدیت کے خلاف تیار کر کے افریقہ میں کام کرنے کے لئے بھجواتے ہیں۔لیکن خدا کی عجیب قدرت ہے کہ ان علماء میں سے اکثر مقابلہ میں آتے ہی پکے ہوئے پھل کی طرح آغوشِ احمدیت میں آگرتے ہیں۔پھر یہ بنے بنائے مبلغ ، احمدیت کے دفاع میں رابطہ کے مقابلہ پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔حالانکہ رابطہ والے انہیں پہلے بڑی بڑی تنخواہیں اور بڑی مراعات دیتے ہیں۔چنانچہ بورکینا فاسو کے ایک عالم دین مکرم کندا ابراہیم صاحب بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ یو نیورسٹی کی شاخ دعوت و ارشاد میں اعلی دینی تعلیم کی ڈگری حاصل کر کے اپنے وطن واپس لوٹا اور دعوت وارشاد میں مصروف ہو گیا۔ایک روز احمدی مبلغین سے بحث ہوگئی جس میں میں مغلوب رہا۔اس پر میں نے فیصلہ کیا کہ احمدیت کی اصلیت جان کر رہونگا۔دوران تحقیق خوش قسمتی سے مجھے ” التقوی رسالہ کے بعض شمارے ہاتھ لگے جن میں متعدد مسائل پر مضامین تھے۔یہ مضامین واقعی اسلام کو حقیقی اور خوبصورت شکل میں پیش کر رہے تھے جس پر اہل اسلام کو فخر کرنا چاہئے۔اس پر مجھے یقین ہو گیا کہ احمدیت کچی ہے اور میں 1991ء میں احمدی مسلمان ہو گیا۔یادر ہے کہ اب یہ عالم دین ہمارے مبلغ کے طور پر خدمت اسلام بجالا رہے ہیں۔الحمد للہ۔832 بیعتیں محترم امیر صاحب سینیگال لکھتے ہیں: سینیگال کے Chako نامی ایک گاؤں میں میں نے ایک احمدی نوجوان کو التقوی کا جوبلی نمبر دیا۔اس نے آگے مدرسہ کے عربی کے استاد کو یہ رسالہ دیا اور تبلیغ شروع کر دی۔استاد نے رسالہ پڑھا اور نوجوان کو کہا کہ جب آپ کے مبلغ آئیں تو مجھے ضرور ملوانا۔ایک دن خاکسار اس گاؤں کے دورہ پر گیا تو ان استاد صاحب سے ملاقات ہوئی۔انہوں نے چند سوالات کئے اور بیعت کر لی اور مجھے کہا کہ اس رسالہ کو پڑھ کر میں نے یقین کر لیا تھا کہ یہ جماعت کچی ہے۔