مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 268
250 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد دوم کئے جاتے ہیں۔زبان نہایت متین، جدید اور خوبصورت ہے۔ہر تحریر سے اخلاص اور سچی ہمدردی چھلکتی نظر آتی ہے۔کہیں احادیث مبارکہ ہیں تو کہیں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کہیں صحابہ کرام کی عظیم قربانیوں کا بابرکت تذکرہ۔یہ رسالہ تو ہماری تمام دینی علمی ضروریات کو پورا کر دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی عظیم دلیل بن گیا ہے۔یہ رسالہ حدیث مبارک لَو كَانَ الايْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ أَو رِجَالٌ مِنْ هؤلاء “ کا واضح نقشہ پیش کر رہا ہے۔کیونکہ یہ حدیث مبارک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجود پر فردی طور پر پوری ہوئی ہے اور اب اجتماعی شکل میں پوری ہورہی ہے۔”اے انسانی روحو ! خدائے رحمان کی کتنی ہی آیات ہیں جن کے پاس سے تم غافلانہ حالت میں گذر جاتی ہو۔اے انسانی روحو تم اس داعی کی آواز پر لبیک کیوں نہیں کہتی۔“ موریطانیہ سے محمد سنبری صاحب لکھتے ہیں: میں نے اس رسالہ سے وہ فائدہ اٹھایا ہے جو میں نے کئی سال تک اپنی درسگاہ سے نہ اٹھایا تھا۔ہم جماعت کے بارہ میں بہت کچھ سنتے رہے ہیں مگر اب حقیقت کا علم ہوا ہے۔کاش میرے اصلی وطن مائی میں بھی آپ کے مراکز اور مساجد ہوں۔(یادر ہے کہ یہ خط کافی پرانا ہے۔اب تو خدا کے فضل سے مالی میں ہمارا مشن اور لاکھوں احمدی احباب ہیں ) میں آپ سے یہ بات چھپا نہیں سکتا کہ میرے بعض عیسائی دوست تھے جو میرے ساتھ اکثر دینی بحث کرتے ہوئے کہتے کہ ہمارا دین سب سے بہتر دین ہے۔اس کے علاوہ نجات کا کوئی راستہ نہیں۔مگر میں ان کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکتا تھا کیونکہ ہم لوگ بعض ایسے عقائد رکھتے تھے جو ان کے موقف کی تائید کرتے تھے۔مگر جب مجھے مجلہ "التقوی“ ملا تو میں نے اس میں سے بعض باتیں ترجمہ کر کے ان عیسائی دوستوں کو سنانا شروع کیں۔وہ بھلا ہمارے ان دلائل کو کیسے توڑ سکتے تھے جو انہیں کی مقدس کتاب سے لیے گئے تھے۔آخر انہوں نے فرار میں ہی عافیت سمجھی۔مگر دوسری طرف میرے مسلمان دوست ہیں جو مجھے مجلہ القوی کے مطالعہ سے منع کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تم نے پہلی دینی درس گاہ میں ہمارے ساتھ جو پڑھا تھا اسی پر اکتفا کرو۔مگر اس غیر منصف درسگاہ میں تو وہ کچھ پڑھایا گیا تھا جسے عقلِ سلیم دور سے دھکے دیتی