مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک)

by Other Authors

Page 221 of 636

مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 221

203 مصالح العرب۔جلد دوم بارہ میں فرمایا: "وَرَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا“ یعنی ہم نے اس کا ایک بلند مقام کی طرف رفع کیا لی تھا۔اللہ تعالیٰ کا رفع کو اپنی طرف نسبت دینا دراصل اپنے نیک بندوں کا بلند مقام ظاہر کرنا ہے جو وہ عالم غیب میں حشر سے قبل اور بعد میں پائیں گے۔جیسا کہ شہداء کے بارہ میں فرمایا: أحْيَاء عِنْدَ رَبِّهِمْ یعنی وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہیں۔اسی طرح فرمایا: ” إِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِي جَنْتٍ وَنَهَرٍ فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكِ مُقْتَدِرٍ (القمر :55-56)۔‘ یقینا منتفی جنتوں میں اور فراخی کی حالت میں ہوں گے۔سچائی کی مسند پر ، ایک مقتدر بادشاہ کے حضور۔اور جہاں تک آپ کی کافروں سے تطہیر کرنے کا تعلق ہے تو اس سے مراد آپ کی ان کے مکروں اور منصوبوں اور ان کے شر سے نجات ہے۔ایک خالی الذہن قاری جس نے مروجہ روایات اور اقوال کو نہیں سنا اس آیت سے یہی معنی سمجھتا ہے کیونکہ یہی وہ واضح معنی ہے جو سب سے پہلے سمجھ میں آتا ہے۔لیکن مفسرین نے اس کلام کو اسکے ظاہری معنوں سے ہٹا دیا تا کہ انکے اس مفہوم پر صادق آسکے جو انہوں نے مختلف روایات سے اخذ کیا ہے کہ عیسی علیہ السلام کا جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر رفع ہو گیا ہے۔شیخ رشید رضا صاحب اپنی اسی تفسیر میں آیت قرآنى وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَا مِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُم ( آل عمران 145) کی تفسیر میں لکھتے ہیں: و حاصل المعنى أن محمدًا ليس إلا بشرًا رسولا قد خلت ومضت الرسل من قبله فماتوا وقد قتل بعض النبيين كزكريا ويحيى فلم يكن لأحد منهم الخلد وهو لا بد أن تحكم عليه سنة الله بالموت فيخلو كما خلوا من قبله إذ لا بقاء إلا لله وحده ولا ينبغي للمؤمن الموحد أن يعتقده لغيره، أفإن مات كما مات موسى وعيسى، (أو قتل) كما قتل زكريا ويحيى، تنقلبون على أعقابكم) أي تولون الدبر راجعين عما كان عليه، يهديهم الله بهذا إلى أن الرسول ليس مقصودا لذاته فيبقى للناس وإنما المقصود من إرساله ما أرسل به من الهداية فيجب العمل بها من بعده “ تفسير المنار جلد 4 صفحه 161 دار المنار، الطبعة الثالثة 1368ه)